• 7 اگست, 2020

حوادث طبعی یا عذاب الٰہی (حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ)

(قسط ششم)

طاعون کا دور آخر

چودھویں صدی عیسوی میں ایک عالمگیر تباہی مچانے کے بعد طاعون ایک دفعہ پھر نظروں سے غائب ہو گئی اور کچھ اس طرح غائب ہوئی کہ اس کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔ اس مر تبہ اس نے چھ صدیوں تک پھر دنیا کا منہ نہ دیکھا اور تہہ زمین سوراخوں میں روپوش رہی، بعد ازاں اسی طرح جیسے اس نے حضرت عیسی علیہ السلام کے واقعہ صلیب کے بعد چودھویں صدی میں سر نکالا تھا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی بعثت کے بعد تیرھویں صدی کے آخر میں طاعون کی مرض ایک دفعہ پھر اپنے بلوں سے باہر نکلنا شروع ہوئی اور چودھویں صدی میں پورے عروج پر پہنچ گئی۔ بظاہر یہ سب اتفاقی حادثات ہیں۔ جنہیں سائنسی اصطلاح سے (Great Circles) یعنی وسیع دائرے کہا جائے گا۔ لیکن اہل ایمان کے لئے یقیناً اس امر میں فکر کا بڑا مواد ہے کہ یہ وسیع دائرے نیکی اور بدی، ظہور رسالت اور انکار رسالت، نور اور ظلمت، مظلومیت اور ظلم کے وسیع دائروں کے ساتھ حیرت انگیز طور پر مطابقت رکھتے ہیں ۔ ایک بد مذہب جو چاہے سوچے اور ہمارے اس طرز فکر کو جس طرح چاہے توہمات اور ضعیف الاعتقادی قرار دے لیکن جوں جوں یہ بات آگے بڑھے گی ہمارے مضمون کا دوسرا حصہ جو طاعون کے دور آخر سے تعلق رکھتا ہے بعض ایسے تازہ مشاہدات پر بحث کرے گا جو ایک منصف مزاج کو اس بات کا قائل کرنے کے لئے کافی ہوں گے کہ بات حوادث کے دائرے سے بہت آگے نکل چکی ہے اور یقیناً حوادث زمانہ کی بجائے کوئی اور قانون اس وباء کے پس پردہ کارفرما آتا ہے۔

طاعون کے جس دور کا ہم نے ذکر کیا ہے اس کا پہلی مرتبہ 1880ء میں میسو پو ٹیمیا کے علاقے سے آغاز ہوا۔ یہ بعینہ وہی دور ہے جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہندوستان کی ایک گمنا م بستی قادیان میں اسلام کی حمایت میں ایک عظیم دفاعی جنگ لڑ رہے تھے آپ کو زمانے کے امام کی حیثیت سے ماموریت کی خلعت پہنائی جا رہی تھی۔ ظہور طاعون کا اس زمانے سے انطباق یقیناً معنی خیز ہے۔ لیکن اس سے بڑھ کر تعجب کی بات یہ ہے کہ جب تک اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو واضح طور پر یہ خبر نہ دی کہ طاعون عذاب الہٰی کی شکل اختیار کرنے والی ہے۔ اس وقت تک طاعون کو کھل کھیلنے کی تو فیق عطا نہ ہوئی۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے کسی ہولناک درندے کو مضبوط زنجیروں سے جکڑا ہوا ہو، اسے ہم غیظ و غضب میں بل کھاتے ہوئے دیکھ رہے ہوں اور اس کی چنگھاڑ بھی سن رہے ہوں۔ لیکن ابھی اس کی زنجیریں کھولی نہ گئی ہوں۔

1897ء میں پہلی مرتبہ اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو یہ خبر دی کہ قادیان میں طاعون داخل ہوگئی ہے۔ اس وقت تک اگرچہ گزشتہ سترہ سال میں کئی مرتبہ طاعون کا متفرق حملے ہندوستان کے بعض جنوب اور جنوب مغربی علاقوں پر ہوچکے تھے لیکن پنجاب ان کے اثر سے محفوظ تھا۔ اس واضح خبر کے باوجود آپ نے بعض وجوہ سے قادیان میں طاعون کے ظاہر ہونے کی اور تعبیر فرمائی اور خیال کیا کہ شائد اس سے مراد خارش کی قسم کی کوئی بیماری ہو*۔ اس کے چند ماہ بعد اللہ تعالیٰ نے بڑی وضاحت کے ساتھ آپ کو طاعون کے پنجاب میں شدت سے پھیل جانے کی خبر دی جس سے آپ اس حد تک متاثر ہوئے کہ آپ نے اشتہار کے ذریعے 6۔فروری 1898ء کو پنجاب کو خصوصاً اور تمام ہندوستان کو عموماً حسب ذیل الفاظ میں اس خبر سے متنبہ کیا۔ ‘‘ہماری گورنمنٹ محسنہ نے کمال ہمدردی سے تدبیریں کیں اور اپنی رعایا پر نظر شفقت کرکے لکھوکھہا روپیہ کا خر چ اپنے ذمہ ڈال لیا اور قواعد طبیہ کے لحاظ سے جہانتک ممکن تھا ہدایتیں شائع کیں مگر اس مرض مہلک سے اب تک بکلی امن حاصل نہیں ہوا بلکہ بمبئی میں ترقی پر ہے اور کچھ شک نہیں کہ ملک پنجاب بھی خطر ہ میں ہے۔ ہر ایک کو چاہیئے کہ اس وقت اپنی اپنی سمجھ اور بصیرت کے موافق نوع انسان کی ہمدردی میں مشغول ہو……… ایک اور امر ضروری ہے جس کے لکھنے پر میرے جوش ہمدردی نے مجھے آمادہ کیا ہے اور میں خوب جانتا ہوں کہ جو لوگ روحانیت سے بے بہرہ ہیں اس کو ہنسی اور ٹھٹھے سے دیکھیں گے مگر میرا فرض ہے کہ میں اس کو نوع انسان کی ہمدردی کے لئے ظاہر کروں اور وہ یہ ہے کہ آج جو 6۔فروری 1898ء روز یکشنبہ ہے میں نے خواب میں دیکھا کہ خدا تعالیٰ کے ملائک پنجاب کے مختلف مقامات میں سیاہ رنگ کے پودے لگا رہے ہیں اور وہ درخت نہایت بد شکل اور سیاہ رنگ کے اور خوفناک اور چھوٹے قد کے ہیں۔ میں نے بعض لگانے والوں سے پوچھا کہ یہ درخت کیسے ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ طاعون کے درخت ہیں جو عنقریب ملک میں پھیلنے والی ہے۔ میرے پر یہ امر مشتبہ رہا ہے کہ اس نے یہ کہا کہ آئندہ جاڑے میں یہ مرض بہت پھیلے گا یا یہ کہا کہ اس کے بعد جاڑے میں پھیلے گا۔ لیکن نہایت خوفناک نمونہ تھا جو میں نے دیکھا اور مجھے اس سے پہلے طاعون کے بارے میں الہام بھی ہوا اور وہ یہ ہے اِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوۡمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوۡا مَا بِاَنۡفُسِہِمۡ اِنَّہٗ اَوَی الْقَرْیَۃَ یعنی جب تک دلوں کی وبا معصیت دور نہ ہو تب تک ظاہری وبا بھی دور نہیں ہوگی اور در حقیقیت دیکھا جاتا ہے کہ ملک میں بدکاری بکثرت سے پھیل گئی ہے اور خداتعالیٰ کی محبت ٹھنڈی ہو کر ہوا و ہوس کا ایک طوفان برپا ہورہا ہے۔ اکثر دلوں سے اللہ جل شانہٗ کا خوف اٹھ گیا ہے اور وباؤں کوایک معمولی تکلیف سمجھا گیا ہے جو انسانی تدبیروں سے دور ہوسکتی ہے۔ ہر ایک قسم کے گناہ بڑی دلیری سے ہو رہے ہیں۔ اور قوموں کا ہم ذکر نہیں کرتے ۔وہ لوگ جو مسلمان کہلاتے ہیں ان میں سے جو غریب اور مفلس ہیں اکثر ان میں سے چوری اور خیانت اور حرام خوری میں نہایت دلیر پائے جاتے ہیں۔ جھوٹھ بہت بولتے ہیں اور کئی قسم کے خسیس اور مکروہ حرکات ان سے سرزد ہوتے ہیں اور وحشیوں کی طرح زندگی بسر کرتے ہیں۔ نماز کا تو ذکر کیا کئی کئی دنوں تک منہ بھی نہیں دھوتے اور کپڑے بھی صاف نہیں کرتے اور جو لوگ امیر اور رئیس اور نواب یا بڑے بڑے تاجر اور زمیندار اور ٹھیکیدار اور دولت مند ہیں وہ اکثر عیاشیوں میں مشغو ل ہیں اور شراب خوری اور زنا کاری اور بد اخلاقی اور فضول خرچی ان کی عادت ہے اور صرف نام کے مسلمان ہیں اور دینی امور میں اور دین کی ہمدردی میں سخت لا پرواہ پائے جاتے ہیں۔

اب چونکہ اس الہام سے جو ابھی میں نے لکھا ہے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تقدیر معلق ہے اور توبہ اور استغفار اور نیک عملوں اور ترک معصیت اور صدقات اور خیرات اور پاک تبدیلی سے دور ہو سکتی ہے لہٰذا تمام بندگان خدا کو اطلاع دی جاتی ہے کہ سچے دل سے نیک چلنی اختیار کریں اور بھلائی میں مشغول ہوں اور ظلم اور بدکاری کے تمام طریقوں کو چھوڑ دیں‘‘۔

(مجموعہ اشتہارات حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد دوم، صفحہ 183-186)
الحکم جلدنمبر1نمبر5، 23 نومبر 1897ء[

آپ کے اس اشتہار کی اشاعت کے تقریباً دو سال بعد تک طاعون کا کوئی غیر معمولی حملہ پنجاب پر نہیں ہوا۔ چنانچہ بجائے استغفار کرنے اور گناہوں سےتوبہ کرنے کے کیا علماء اورکیا عوام الناس سب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس پیشگوئی پر ہنسی اڑانی شروع کی اور تمسخر کے ساتھ اس کے تذکرے کرنے لگے۔ لیکن افسوس ہے کہ جلد یہ ہنسی رونے پیٹنے اور ماتم میں تبدیل ہوگئی کیونکہ طاعون اچانک اس تیزی کے ساتھ پنجاب میں پھیل گیا کہ ہندوستان کے دوسرے علاقوں میں کم ہی اس شدت کا حملہ ہوا ہوگا چنانچہ آپ نے اس افسوس ناک حالت کا ذکر کرتے ہوئے 17 مارچ 1901ء بذریعہ اشتہار اہل وطن کو ایک دفعہ پھر نصیحت فرمائی اور استغفار اور توبہ کرنے کی ہدایت کی۔ اس اشتہار کے چند اقتبا سات پیش ہیں۔

1۔’’ناظرین کو یاد ہوگا کہ 6 فروری 1898ء کو میں نے طاعون کے بارے میں ایک پیشگوئی شائع کی تھی اور اس میں لکھا تھا کہ مجھے یہ دکھلایا گیا ہے کہ اس ملک کے مختلف مقاموں میں سیاہ رنگ کے پودے لگائے گئے ہیں اور وہ طاعون کے پودے دور ہوسکتے ہیں اور میں نے اطلاع دی تھی کہ توبہ اور استغفار سے وہ پودے دور ہوسکتے ہیں مگر بجائے توبہ اور استغفار کے وہ اشتہار بڑی ہنسی اوت ٹھٹھے سے پڑھا گیا اب میں دیکھتا ہوں کہ وہ پیشگوئی ان دنوں میں پوری ہو رہی ہے خدا ملک کو اس آفت سے بچاوے اگر خدانخواستہ اس کی ترقی ہوئی تو وہ ایک ایسی بلا ہے کس کے تصور سے بدن کانپتا ہے۔ سوائے عزیزو اسی غرض سے پھر یہ اشتہار شائع کرتا ہوں کہ سنبھل جاؤ اور خدا سے ڈرو اور ایک تبدیلی دکھلاؤ تا خدا تم پر رحم کرے اور وہ بلا جو بہت نزدیک آگئی ہے خدا اس کو نا بود کرے‘‘۔

2۔ ’’اے غافلو! یہ ہنسی اور ٹھٹھے کا وقت نہیں ہے یہ وہ بلا ہے جو آسمان سے آتی اور صرف آسمان کے خدا کے حکم سے دور ہوتی ہے………..معمولی درجہ کی طاعون یا کسی اور وباء کا آنا ایک معمولی بات ہے لیکن جب یہ بلا ایک کھا جانے والی آگ کی طرح کسی شہر میں اپنا منہ کھولے تو یقین کرو کہ وہ شہر کامل راست بازوں کے وجود سے خالی ہے۔ تب اس شہر سے نکلو یا کامل توبہ اختیار کرو۔ ایسے شہر سے نکلنا طبی قواعد کی رو سے مفید ہے ایسا ہی روحانی قواعد کی رو سے بھی …………‘‘

3۔ ’’اللہ جلشانہٗ اپنے رسول کوقرآن شریف میں فرماتا ہے وَ مَا کَانَ اللّٰہُ لِیُعَذِّبَہُمۡ وَ اَنۡتَ فِیۡہِمۡ یعنی خدا ایسا نہیں ہے کہ وہ وبا وغیرہ سے ان لوگوں کو ہلاک کرے جن کے شہر میں تو رہتا ہو۔ پس چونکہ وہ نبی علیہ السلام کامل راستباز تھا اس لئے لاکھوں کی جانوں کا وہ شفیع ہوگیا۔ یہی وجہ ہے کہ مکہ جب تک آنحضرت ﷺ اس میں تشریف رکھتے رہے امن کی جگہ رہا اور پھر جب مدینہ تشریف لائے تو مدینہ کا اس وقت نام یثرب تھا جس کے معنے ہیں ہلاک کرنے والا۔ یعنی اس میں ہمیشہ سخت وبا پڑا کرتی تھی آپؐ نے داخل ہوتے ہی فرمایا کہ اب کے بعد اس کا نام یثرب نہ ہوگا بلکہ اس کا نام مدینہ ہوگا یعنی تمدن اور آبادی کا جگہ۔ اور فرمایا کہ مجھے دکھایا گیا ہے کہ مدینہ کی وبااس میں سے ہمیشہ کے لئے نکال دی گئی ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور اب تک مکہ اور مدینہ ہمیشہ طاعون سے پاک رہے۔ میں اس خدائے کریم کا شکر کرتا ہوں کہ اسی آیت کے مطابق اس نے مجھے بھی الہام کیا ۔اور وہ یہ ہے اَلْاَمْرَاضُ تُشَاعُ وَ النَّفُوْسُ تُضَاعُ ۔اِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوۡمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوۡا مَا بِاَنۡفُسِہِمۡ اِنَّہٗ اَوَی الْقَرْیَۃَ یہ الہام اشتہار 6۔فروری 1898ء میں شائع ہوچکا ہے۔ اور یہ طاعون کے بارے میں ہے۔ اس کا خلاصہ مطلب یہ ہے کہ موتوں کے دن آنے والے ہیں مگر نیکی اور توبہ کرنے سے ٹل سکتے ہیں اور خدا نے اس گاؤں کو اپنی پناہ میں لے لیا ہے اور متفرق کئے جانے سے محفوظ رکھا۔ یعنی بشرط توبہ۔ اور براہین احمدیہ میں یہ الہام بھی درج ہے کہ وَ مَا کَانَ اللّٰہُ لِیُعَذِّبَہُمۡ وَ اَنۡتَ فِیۡہِمۡ یہ خدا کی طرف سے برکتیں ہیں اور لوگوں کی نظر میں عیب‘‘۔

(مجموعہ اشتہارات حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلددوم، صفحہ500-502)

طاعون کی اس وبا کا غیر معمولی طرز عمل جو اسے عام وباؤں سے ممتاز کرتا ہے

1901ء میں طاعون کی وبانے پنجاب پر ایک عام ہلہ بول دیا اور وہ لوگ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی گزشتہ پیشگوئیوں کو استخفاف و استہزاکی نظروں سے دیکھ رہے تھے اچانک ہر طرف سے انتہائی ہولناک طاعون کے نرغے میں گھر گئے۔ اس وقت وباء کی شدت کے دوران آپ کا یہ دعویٰ سخت تعجب انگیز تھا کہ یہ مرض آپ کے گھر کی چار دیواری میں بسنے والوں کو ہرگز کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گی۔ یہی نہیں بلکہ یہ دعویٰ بھی کیا گیاکہ صرف آپؑ کا گھر ہی نہیں خود قادیان بھی اس مرض کے ایسے حملے سے محفوظ رہے گا جو دوسرے شہروں کی طرح ہلاک خیز ہو گویا اس لحاظ سے پنجاب کے دوسرے شہروں کی نسبت قادیان کو ایک خاص امتیاز حاصل رہے گا لیکن پیشتر اس کے کہ ہم طاعون کی وباکا اس پہلو سے تنقیدی جائزہ لیں کہ اس میں عذاب الہٰی ہونے کے کیا کیا خصوصی امتیازات پائے جاتے تھے بہتر ہوگا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ ہی میں ان الہٰی مواعید اور بشارتوں کا ذکر کیا جائے جو اس ضمن میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو دیئے۔ آپ فرماتے ہیں:

’’چار سال ہوئے کہ میں نے ایک پیشگوئی شائع کی تھی کہ پنجاب میں سخت طاعون آنے والی ہے اور میں اس ملک میں طاعون کے سیاہ درخت دیکھے ہیں جو ہر ایک شہر اور گاؤں میں لگائے گئے ہیں اگر لوگ توبہ کریں تو یہ مرض دو جاڑہ سے بڑھ نہیں سکتی۔ خدا اس کو رفع کردے گا۔ مگر بجائے توبہ کے مجھ کو گالیاں دی گئیں اور سخت بد زبانی کے اشتہار شائع کئے گئے جس کا نتیجہ طاعون کی یہ حالت ہے جو اب دیکھ رہے ہو‘‘۔

’’اب اس تمام وحی سے تین باتیں ثابت ہوئی ہیں (1) اول یہ کہ طاعون دنیا میں اس لئے آئی ہے کہ خدا کے مسیح موعود سے نہ صرف انکار کیا گیا بلکہ اس کو دکھ دیا گیا ۔ اس کے قتل کرنے کےلئے منصوبے کئے گئے اس کا نام کافر اور دجال رکھا گیا۔ پس خدا نے نہ چاہا کہ اپنے رسول کو بغیر گواہی چھوڑے……
(2) دوسری بات جو اس وحی سے ثابت ہوئی وہ یہ ہے کہ یہ طاعون اس حالت میں فرد ہوگی جبکہ لوگ خدا کے فرستادہ کو قبول کرلیں گے ۔کم سے کم یہ کہ شرارت اور ایذا اور بد زبانی سے باز آجائیں گے……..
(3) تیسری بات جو اس وحی سے ثابت ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ بہرحال جب تک کہ طاعون دنیا میں رہے گو ستر برس تک رہے قادیاں کو اس کی خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا کیونکہ یہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے اور یہ تمام امتوں کے لئے نشان ہے‘‘۔

(دافع البلاء، روحانی خزائن جلد 18، صفحہ 225، 229-230)

’’چونکہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ ملک میں عام طاعون پڑے گی اور کسی کم مقدار کی حد تک قادیان بھی اس سے محفوظ نہیں رہے گی اسی لئے اس نے آج کے دنوں سے تئیس برس پہلے فرمایا کہ جو شخص اس مسجد اور اس گھر میں داخل ہوگا یعنی اخلاص اور اعتقاد سے وہ طاعون سے بچایا جائے گا۔ اسی کے مطابق ان دنوں میں خدا تعالیٰ نے مجھے مخاطب کرکے فرمایا:

اِ نِّیْۤ اُحَافِظُ کُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ۔ اِلَّا الَّذِیْنَ عَلَوْا مِنْ اسْتِکْبَارٍ۔ وَ اُحَافِظُکَ خَآ صَّۃً۔ سَلَامٌ قَوۡلًا مِّنۡ رَّبٍّ رَّحِیۡمٍ یعنی میں ہر ایک ایسے انسان کو طاعون کی موت سے بچاؤں گا جو تیرے گھر میں ہوگا مگر وہ لوگ جو تکبر سے اپنے تئیں اونچا کریں۔ اور میں تجھے خصوصیت کے ساتھ بچاؤں گا۔خدائے رحیم کی طرف سے تجھے سلام۔

جاننا چاہیئے کہ خدا کی وحی نے اس ارادہ کو جو قادیان کے متعلق ہے دو حصوں پر تقسیم کردیا ہے (1) ایک وہ ارادہ جو عام طور پر گاؤں کے متعلق ہے اور وہ ارادہ یہ ہے کہ یہ گاؤں اس شدت طاعون سے جو افراتفری اور تباہی ڈالنے والی اور ویران کرنے والی اور تمام گاؤں کو منتشر کرنے والی ہو محفوظ رہے گا (2) دوسرے یہ ارادہ کہ خدائے کریم خاص طور پر اس گھر کی حفاظت کرے گا اور اس کو تمام عذاب سے بچائے گا جو گاؤں کے دوسرے لوگوں کو پہنچے گا اور اس وحی اللہ کا اخیر فقرہ ان لوگوں کے لئے منذر ہے جن کے دلوں میں بے جا تکبر ہے‘‘۔

(نزول المسیح، روحانی خزائن جلد 18، صفحہ 401-402)

’’کچھ شک نہیں کہ اس وقت تک جو تدبیر اس عالم اسباب میں اس گورنمنٹ عالیہ کے ہاتھ آئی وہ بڑی سے بڑی اور اعلیٰ سے اعلیٰ یہ تدبر ہے کہ ٹیکا کرایا جائے اس سے کسی طرح انکار نہیں ہوسکتا کہ یہ تدبیر مفید پائی گئی ہے اور بپابندی رعایت اسباب، تمام رعایا کا فرض ہے کہ اس پر کاربند ہو کر وہ غم جو گورنمنٹ کو ان کی جانوں کے لئے ہے اس سے اس کو سبکدوش کریں۔ ہم لیکن بڑے ادب سے اس محسن گورنمنٹ کی خدمت میں عرض کرتے ہیں کہ اگر ہمارے لئے ایک آسمانی روک نہ ہوتی تو سب سے پہلے رعایا میں سے ہم ٹیکا کراتے اور آسمانی روک یہ ہے کہ خدا نے چاہا ہے کہ اس زمانے میں انسانوں کے لئے ایک آسمانی رحمت کا نشان دکھا وے سو اس نے مجھے مخاطب کرکے فرمایا کہ تو اور جو شخص تیرے گھر کی چار دیوار کے اندر ہوگا اور وہ جو کامل پیروی اور اطاعت اور سچے تقویٰ سے تجھ میں محو ہو جائے گا وہ سب طاعون سے بچائے جائیں گے اوران آخری دنوں میں خدا کا یہ نشان ہوگا کہ تو وہ قوموں میں فرق کرکے دکھلاوے لیکن وہ جو کامل طور پر پیروی نہیں کرتاوہ تجھ میں سے نہیں ہے اس لئے مت دلگیر ہو یہ حکم الہٰی ہے جس کی وجہ سے ہمیں اپنے نفس کے لئے اور ان سب کے لئے جو ہمارے گھر کی چار دیوار میں رہتے ہیں ٹیکا کی کچھ ضرورت نہیں….. اس نے مجھے مخاطب کرکے یہ بھی فرما دیا کہ عموماً قادیان میں سخت بربادی افگن طاعون نہیں آئے گی جس سے لوگ کتوں کی طرح مریں اور مارے غم اور سر گردانی کے دیوانہ ہوجائیں اور عموماً تمام لوگ اس جماعت کے گو وہ کتنے ہی ہوں مخالفوں کی نسبت طاعون سے محفوظ رہیں گے مگر ایسے لوگ ان میں سے جو اپنے عہد پر پورے طور پر قائم نہیں یا ان کی نسبت اور کوئی وجہ مخفی ہو جو خدا کے علم میں ہو ان پر طاعون وارد ہوسکتی ہے مگر انجام کار لوگ تعجب کی نظر سے اقرار کریں گے کہ نسبتاً و مقابلۃً خدا کی حمایت اس قوم کے ساتھ ہے اور اس نے خاص رحمت سے ان لوگوں کو ایسا بچایا ہے جس کی نظیر نہیں۔ اس بات پر بعض نادان چونک پڑیں گے اور بعض ہنسیں گے اور بعض مجھے دیوانہ قرار دیں گے اور بعض حیرت میں آئیں گے کہ کیا ایسا خدا موجود ہے جو بغیر رعایت اسباب کے بھی رحمت نازل کرسکتا ہے ؟اس کا جواب یہی ہے کہ ہاں بلاشبہ ایسا قادر خدا موجود ہے اور اگر وہ ایسا نہ ہوتا تو اس سے تعلق رکھنے والے زندہ ہی مرجاتے وہ عجیب قادر ہے اور اس کی پاک قدرتیں عجیب ہیں۔ ایک طرف نادان مخالفوں کو اپنے دوستوں پر کتوں کی طرح مسلط کر دیتا ہے اور ایک طرف فرشتوں کو حکم کرتا ہے کہ ان کی خدمت کریں‘‘۔

(کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19، صفحہ 1-3)

مندرجہ بالا اقتباسات میں جو دعاوی کئے گئے ہیں ان کی رو سے طاعون کی اس وباء میں حسب ذیل خصوصیات ہونی چاہیئے تھیں جو اسے عام وباؤں سے ممتاز کردیں اور قطعی طور پر یہ ثابت ہوجائے کہ یہ کوئی عام وباء نہیں بلکہ عذاب الہٰی کے قبیل سے تعلق رکھنے والا ایک عظیم الشان عذاب ہے۔

  1. پیشگوئی کے بعد اس وباء کو غیر معمولی طور پر بڑھنا چاہیئے تھا۔
  2. پنجاب کے دیگر قصبات کے برعکس قادیان کو اس وباء کی غیر معمولی شدت سے محفوظ رہنا چاہیئے۔
  3. عموماً جماعت احمدیہ کے افراد اس حملے سے اس حد تک نمایاں طور پر محفوظ رہنے چاہئیں تھے تا یہ بات لوگوں کی نظر میں عجیب ٹھہرے۔
  4. خصوصاً قادیان کا وہ حصہ اس وباء سے بالکل محفو ظ رہنا چاہیئے تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی رہائش گاہ تھا۔ ہر وہ شخص جو اس میں رہائش پذیر تھا اس کے اثر سے محفوظ و مامون ہونا چاہیئے تھا۔
  5. اس طاعون کے نتیجے میں لوگوں نے بکثرت آپؑ پر ایمان لانا تھا اور جب تک ایسا نہ ہو طاعون نے ملک کا پیچھا نہ چھوڑنا تھا۔

جب ہم تاریخی حقائق پر نظر ڈالتے ہیں تو بڑی حیرت کے ساتھ اس بات کا مشاہدہ کرتے ہیں کہ مندرجہ بالا دعاوی میں سے ہر ایک بڑی شان کے ساتھ سچا ثابت ہوا۔

سب سے پہلے ہم اعداد و شمار پیش کرتے ہیں جن سے یہ ثابت ہوگا کہ طاعون کی پیشگوئی سے قبل اور طاعون کی پیشگوئی کے بعد کے حالات میں ایک ایسی نمایاں تبدیلی پیدا ہوئی جو کسی انسان کے بس کی بات نہ تھی۔

ذیل میں ہم طاعون کی پیشگوئی سے قبل کے اعداد و شمار پیش کرتے ہیں جو طاعون کے مختلف ملکوں میں پھیلاؤ سے تعلق رکھتے ہیں۔

1880ء میں صرف ایک ملک میں طاعون ظاہر ہوا۔ 1881ء میں تین ممالک، 1882ء میں دو ممالک، 1883ء میں ایک ملک، 1884ء میں پھر دو ممالک88-87-86-1885ءمیں صرف ایک ملک میں، 1889ء میں پھر یہ بڑھنا شروع ہوا اور91-90-1889ءمیں تین ممالک میں ظاہر ہوا۔ 1892ء میں چار ممالک، 94-1893ء میں ایک دم پھیل کر نو ممالک پر قابض ہوگیا۔ 1895ء میں دو ممالک اور97-1896ء میں چھ ممالک تک محدود رہا۔ ان اعداد کے مطالعہ سے صاف ظاہر ہے کہ طاعون کی انتہائی چوٹی 1893ء میں قائم ہوئی جس کے بعد مسلسل تین سال تک اس کا دائرہ عمل محدود رہا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے طاعون کے عذاب الہٰی کی صورت میں پھیلنے کی 1898ء میں خبر دی اور 1898ء میں طاعون اچانک پھر پھیلنا شروع ہوا اور چھ ممالک کی بجائے آٹھ ممالک پر حملہ آور ہوا۔ 1899ء میں اکیس ممالک، 1900ء میں 26 ممالک، 1901ء میں 27ممالک اور 1902ء میں 28ممالک پر مسلط ہوگیا۔ اس نقشہ کو دیکھ کر طبیعت پر یہ اثر پڑتا ہے کہ اس الہٰی تنبیہ کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ بنی نوع انسان کو اس آنے والی آفت سے متنبہ کردیا گیا تو ساتھ ہی اس بلا کی زنجیریں کھول دی گئیں اور یہ اس تیز رفتاری سے آگے بڑھی گو یا پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔ ہمیں افسوس ہے کہ انسائیکلوپیڈیا بر ٹینیکا طاعون کے پھیلاؤ کا صرف 1902ء تک ذکر کرتا ہے اس لئے ہم مکمل نقشہ پیش کرنے سے قاصر ہیں۔ ہاں جہاں تک طاعون کے اثرات کا تعلق ہے یہ امر باعث اطمینان ہے کہ 1906ء تک طاعون کے نتیجہ میں رونما ہونے والی اموات کے اعداد و شمار محفوظ کردیئے گئے۔ اس نقشے پر بھی نظر ڈال کر دیکھئے تو پیشگوئی سے قبل اور پیشگوئی کے بعد کے اعداد و شمار میں نمایاں فرق نظر آئے گا۔

اس نقشے کے مطالعے سے یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ ہندوستان یعنی وہ ملک جس میں وقت کا امام ظاہر ہوا تھا اور جس نے آفت سے بالخصوص اس ملک کو متنبہ کیا طاعون کی سب سے زیادہ خوفناک آماجگاہ بن گیا۔ 1899ء میں یعنی پیشگوئی سے قبل کے سال 2219 اموات طاعون کی وباء کے نتیجہ میں ہوئیں لیکن جب پیشگوئی کی گئی یہ اموات اچانک بڑھ کر 47976 تک پہنچ گئیں۔ اعداد و شمار حسب ذیل ہیں جو ہمارے بیان پر شاہد ناطق ہیں۔

سال تعداد اموات
1896ء 2219
1897ء 47976
1898ء 89265
1899ء 102369
1900ء 73576
1901ء 236433
1902ء 452655
1903ء 684445
1904ء 938010
1905ء 940821
1906ء 300355

مندرجہ بالا نقشہ میں صرف 1900ء کا سال ایسا ہے جس میں گزشتہ سال سے اموات میں کچھ کمی دکھائی دیتی ہے۔ باقی تمام سالوں میں 1905ء تک مسلسل اموات کی تعداد ہولناک طریق پر بڑھتی ہوئی نظر آتی ہے جو بالا خر 1906ء میں پھر گرنا شروع ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد طاعون رفتہ رفتہ غائب ہوتے ہوتے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال تک تقریباً معدوم ہو چکی ہے۔

طاعون کے پھیلاؤ اور اموات کی تعداد کے سالانہ اعدادوشمار ذہن کو اس آیت کے مضمون کی طرف بھی منتقل کردیتے ہیں جس میں اللہ تعالیٰ فرعون کی قوم پر نازل ہونے والے عذابوں کے ذکر میں عذاب الہٰی کی ایک علامت یہ بھی بیان فرماتا ہے کہ اگلے جھٹکے پچھلے جھٹکوں سے شدید تر ہوتے ہیں جیسا کہ فرمایا:

وَ مَا نُرِیۡہِمۡ مِّنۡ اٰیَۃٍ اِلَّا ہِیَ اَکۡبَرُ مِنۡ اُخۡتِہَا ۫ وَ اَخَذۡنٰہُمۡ بِالۡعَذَابِ لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ۔

(سورۃ الز خرف، آیت 49)

ترجمہ: اور ہم ان کو جو نشان بھی دکھاتے تھے وہ اپنے پہلے نشان سے بڑا ہوتا تھا اور ہم نے ان کو عذاب میں مبتلا کردیا تھا تاکہ وہ (اپنی بد اعمالیوں سے) لوٹ جائیں۔

اب اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ سلسلہ قیامت تک اسی طرح جاری رہتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس وقت تک وہ عذاب مقدر ہو اور جس وقت تک اس کے اٹھا لینے کا فیصلہ نہ ہوجائے اس وقت تک وہ مسلسل شدت اختیار کرتا چلا جاتا ہے لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ جب قوم میں خدا تعالیٰ کی طرف توجہ پیدا ہو اور وہ شدت استغفار کی طرف مائل ہو تو جب تک یہ کیفیت قوم میں پائی جائے یہ عذاب نرم پڑجاتا ہے یا ٹل جاتا ہے۔ یہ دوسرا اصول بھی قرآن کریم فرعون کی قوم پر آنے والے عذابوں کے ضمن میں ہی بیان کرتا ہے جیسا کہ فرمایا کہ جب کبھی عذاب بشدت اس قوم کو پکڑ لیتا تھا وہ لوگ مائل بہ استغفار ہوتے تھے اور حضرت موسیٰ سے دعا کی درخواست کرتے تھے۔ تب وہ عذاب ٹل جاتا تھا یہاں تک کہ جلد ہی اس کے بعد قوم پھر شرارتوں کی طرف لوٹ آتی تھی۔ تب اللہ تعالیٰ بھی ایک نیا عذاب ان پر وارد کرتا تھا۔ پس کسی وقت عذاب کا وقتی طور پر ٹل جانا یا نرم پڑجانا اس آیت کے مضمون کے مخالف نہیں ہے جس کا اوپر ذکر کیا گیا۔ بیک وقت دونوں باتیں اس طرح نظر آتی ہیں کہ عذاب اپنی شدت میں بالعموم خفیف سے اشد کی طرف حرکت کرتا ہے لیکن کہیں کہیں انسانوں کی بے قراری اور استغفار کے آنسو اس آگ کو کسی حد تک ٹھنڈا کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور وقتی طور پر اس کی شدت میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔

(باقی آئندہ ان شاء اللہ)

(قسط اوّل)

(قسط دوم)

(قسط سوم)

(قسط چہارم)

(قسط پنجم)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 28 جولائی 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 29 جولائی 2020ء