• 5 اگست, 2020

حوادث طبعی یا عذاب الٰہی (حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ)

(قسط چہارم)

ایک اور اہم سوال

سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ آدم کے مخالفین اگر صفحہ ہستی سے مٹا دیئے گئے اور نو ح ؑ کے منکرین کا نشان باقی نہیں رکھا گیا اور موسیٰ ؑکا مقابلہ کرنے والے اگر نیل کی موجوں کی نذر ہوگئے اور داؤد کے دشمنوں کی صف اگر لپیٹ دی گئی اور عیسٰیؑ کے ماننے والوں کو بھی اس کے منکرین پر ایسا عظیم الشان غلبہ حاصل ہو گیاکہ وہ جو کبھی تعداد میں کم تھے وہ غالب اکثریت میں تبدیل ہوگئے اور وہ جو کبھی محکوم اور مظلوم تھے حاکم اور جابر بن گئے۔ پھر کیوں آنحضرتﷺ جو نبیوں کے سرتاج اور سردار اور خاتم المرسلین ہیں آپﷺ تائید میں عذاب الٰہی نے وہ معجزات نہ دکھائے کہ جو گزشتہ انبیا ء کی تائید میں دکھا چکا تھا اور کیوں آج تک آپ کو اپنے مخالفین پر اتنا غلبہ بھی نصیب نہیں ہو سکا جتنا حضرت عیسٰی ؑ کے ماننے والوں کو واقعہ صلیب کے چند سو سال کے اندر نصیب ہو گیا؟

اس کے جواب میں پہلا قابل توجہ امر یہ ہے کہ قرآن کریم نے کہیں یہ دعویٰ نہیں کیا کہ عذاب الٰہی کا مقصد بلااستثناء ہمیشہ یہی ہوا کرتا ہے کہ مخالف قوم کلیۃً مٹا دی جائے اگرچہ قرآن کریم بعض ایسی قوموں کا ذکر بھی کرتا ہے جن کے متعلق یہی فیصلہ ہو چکا تھا کہ ان کا نام و نشان مٹا دیا جائے لیکن قاعدہ کلیہ کے طور پر پیش نہیں کرتا۔ ہاں اگر قاعدہ کلیہ ہے تو صرف یہ کہ عذاب الٰہی کے نتیجہ میں انبیاء کی جماعتوں کو اپنے مخالفین کی جماعتوں پر لازما ًغلبہ نصیب ہو جاتا ہے۔ بعض اوقات اس غلبہ کے بعد مخالف قوم کا ایک حصہ باقی رکھا جاتا ہے اور اس کے باقی رکھے جانے میں بھی ایک عذاب کا پہلو ملتا ہے۔ دنیا میں متعدد ایسی خانہ بدوش اور بادیہ پیما قومیں ملتی ہیں جو سخت ذلت اور رسوائی کی زندگی بسر کر رہی ہیں اگر ان کی تاریخ کا تبتع کیا جائے تو بعید نہیں کہ اس خطہ زمین کے کسی صاحب جلال نبی کے انکار کے نتیجہ میں ان کے ابتدائی مولدومسکن پر لعنت کی گئی اور وہ اس قوم کے لئے عبر ت کا نشان بن کر پیچھے چھوڑ دی گئی ہوں۔ لیکن یہ کوئی تحقیق شدہ مسئلہ نہیں محض ایک امکان ہے جہاں تک ٹھوس تاریخی حقائق کا تعلق ہے قرآن کریم اس ضمن میں یہود کی مثال پیش کرتا ہے۔ چنانچہ یہود کا باقی رکھے جانا اس طرز عذاب کی ایک مثال ہے اور قرآن کریم کی پیشگوئی کے مطابق ان کی ذلت اور رسوائی کی کہانی کو قیامت تک زندہ رکھنے کا ایک ذریعہ ہے۔ قرآن کریم اس ضمن میں فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پہلے ہی سے یہ خبر دے دی تھی کہ

جَاعِلُ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡکَ فَوۡقَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ۔

(سورۃ آل عمران، آیت 56)

میں تیرے ماننے والوں کو تیرے منکرین (یہود) پر قیامت تک غالب رکھوں گا۔

یہ پیشگوئی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وصال سے تین سو سال کے اندر نہایت شاندار رنگ میں پور ی ہو گئی اور آج تک قرآن کریم کی صداقت پر ایک زندہ نشان بنی ہوئی ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ اناجیل یا عہد نامہ جدید میں اس بات کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ حالانکہ یہ ایک ایسی اہم اور شاندار پیشگوئی تھی کہ بائبل کو اول طور پر اس کا ذکر کرنا چاہئے تھا تاہم بائبل خاموش رہی اور قرآن کریم نے اس کا ذکر فرمادیا اور اس وقت سے لے کر آج تک دنیا کی تاریخ قرآن کریم کے اس بیان کی تصدیق کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ یہاں ضمناً یہ بھی معلوم ہو گیا کہ عذاب الٰہی کی ایک قسم یہ بھی ہے کہ کسی قوم کو ذلت اور مغلوبیت کی حالت میں مَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ بنا کر تا قیامت زندہ رکھا جائے۔

پھر ایک ضمنی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عہد حاضر میں ایک مسلمان علاقے میں یہود کو غلبہ کیوں نصیب ہوا اور کیوں عالم اسلام کے عین وسط میں ان کو ایک ظالمانہ حکومت قائم کرنے کی توفیق ملی؟ اس سوال پر تفصیلی بحث کا تو یہ موقعہ نہیں البتہ اشارۃً یہ کہنا کافی ہوگا کہ قرآن کریم میں پہلے ہی سے اس عارضی غلبے کی بھی پیشگوئی موجود ہے اور اس کا مقصد یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہود پر اور اہل دنیا پر یہ بات روشن کر دی جائے کہ اس قوم کو قیامت تک مَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ بنانا اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ظلم اور تعدی کا فیصلہ نہیں تھا بلکہ یہ قوم اپنی سرشت کے لحاظ سے اس حد تک بگڑ چکی ہے اور ان کے دل ایسے سخت ہو چکے ہیں کہ اگر انہیں کبھی غلبہ نصیب ہوتو انتہائی ظلم اور سفاکی پر اتر آئیں گے۔ لہٰذا یہ اس قابل نہیں رہے کہ انہیں کبھی دنیا کی سرداری بخشی جائے۔

اب ہم اصل سوال کی طرف واپس آتے ہیں۔ کہ آنحضرتﷺ کے مخالفین پر کیوں ایسا عذاب الٰہی نازل نہیں ہوا جو ان کو کلیۃً آنحضرتﷺ کے دین کے مقابل پر مغلوب کر دیتا اگر آپ تمام بنی نوع انسان کی طرف بنی بنا بھیجے گئے تھے تو محض عرب قوم پر غلبہ عقل کو مطمئن نہیں کر سکتا۔ آج جبکہ حضرت رسول اکرمﷺ کے ظہور کو چودہ سو برس ہونے کو آئے حالت یہ ہے کہ دوسری قومیں تو الگ رہی صرف عیسائیوں کے مقابل پر بھی مسلمان ہر لحاظ سے مغلوب نظر آتے ہیں۔ آج عیسائیوں کو ان پر عددی اکثریت بھی حاصل ہے اور عسکری قوت کا بھی غلبہ نصیب ہے۔ اسی طرح علمی تمدنی اور معاشرتی طور پر بھی دنیا میں عیسائی قومیں غالب اور مسلمان اقوام مغلوب دکھائی دے رہی ہیں۔

اس سوال پر غور کرتے ہوئے سب سے پہلے اس مسئلہ کا حل کرنا ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انبیاء کو جو غلبہ کا وعدہ دیا جاتا ہے۔ اس کی مدت کیا ہونی چاہیئے۔جب تک یہ طے نہ ہو جائے کہ کتنے عرصے میں غلبہ ہونا چاہیئے اس وقت تک اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں دیا جا سکتا۔ اس پہلو سے جب ہم انبیائے گزشتہ کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو اگرچہ غلبہ ایک آخری اور قطعی نتیجہ کے طور پر واضح طور پر دکھائی دیتا ہے لیکن کوئی معیّن مدت ایسی نظر نہیں آتی جو اس بارہ میں رہنما اصول کا کام دے سکے۔ عیسائیت کے غلبے کو ہی لیجئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دعویٰ کے بعد تقریباً تین سو سال تک عیسائیت ایک ابھرتی ڈوبتی اور پھر ڈوبتی اور ابھرتی ہوئی ناؤ کی طرح دکھائی دیتا ہےجس کا مستقبل غیر یقینی نظر آتا ہے۔ ایسے ایسے ادوار بھی عیسائیت پر آئے کہ قوی اور ظالم دشمن سے بظاہر کلیۃً مغلوب ہو کر عیسائیوں کو زیرِ زمین غاروں میں پناہ لینی پڑی۔ اصحاب کہف کی یادگار وہ غاریں آج بھی یورپ میں موجود ہیں جن کا زیر زمین سلسلہ میل ہا میل تک پھیلا ہوا ہے۔ جنہیں کیٹا کوم کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ان کے راستے اتنے پیچیدہ اور اندھیرے ہیں کہ آج کے جدید روشنی کے سامانوں کے باوجود بڑی احتیاط کے ساتھ قافلوں کی صورت میں زائرین راستہ دکھانے والوں کے پیچھے چل کر معائنہ کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود کئی زائرین بھٹک کر ان پیچ در پیچ ظلماتی راستوں کا شکار ہو جاتے ہیں لیکن یہی ظلماتی راہیں کبھی موحد اور مظلوم عیسائیوں کے نور سے روشن تھیں۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے بالائے زمین خطرات کو ان زیرِ زمین خطرات سے بہت زیادہ بھیانک پایا اور بسا اوقات سال ہا سال کا عرصہ انہیں غاروں میں بسر کر دیا لیکن یہ پسند نہ کیا کہ قومی دشمن کے خوف سے اپنے دین کو تبدیل کردیں۔ سطح زمین پر جیسے جیسے رومن تاریخ کروٹیں بدلتی رہی ویسے ویسے ہی یہ عیسائی اقوام کبھی باہر نکل کر کھلے آسمان تلے دم لے لیتیں۔ اور کبھی پھر غاروں میں پناہ گزیں ہو کر ایک نیم خوابیدہ سی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہو جاتیں۔ یہ دور اس طرح چلتا رہا یہاں تک کہ عذاب کی مختلف شکلوں نے پے در پے صدمے پہنچا کر عظیم سلطنت روما کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا اور آخر دنیا نے یہ حیرت انگیز نظارہ دیکھا کہ عیسائیت ان غاروں سے نکل کر ترقی کے بلند و بالا میناروں کی زینت بن گئی اور آج ان اقوام کی تعمیر کردہ سر بفلک عمارتیں آسمان سے باتیں کر تی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ غیرمعمولی بلندی کی وجہ سے انہیں سکائی سکریپر کا نام دیا گیا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کی یہ عجب شان ہے کہ وہ لوگ جو کبھی خدا تعالیٰ کے پیغام کے لئے سطح زمین پہ نہ بس سکتے تھے اور بالائے زمین کھلی فضا میں رہنے کی بجائے انہوں نے محض خدا کی خاطر زیر زمین گہری، تنگ و تاریک غاروں میں رہنا پسند کر لیا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ظاہری رفعتیں بھی ایسی عطا کیں کہ ان کی عمارتیں ہی نہیں وہ خود بھی آسمان سے باتیں کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ کبھی ان کے قدم چاند کی سرزمین کو روندتے ہیں اور کبھی ان کے راکٹس مارس کی بلندیوں کو سر کر لیتے ہیں۔ پس جہاں تک واقعات کا تعلق ہے گو ہر دنیاوی معیار کے لحاظ سے یہ بات ناقابلِ فہم اور ناممکن دکھائی دیتی ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی وفات کے بعد تین صدیوں کے کمزور عیسائی کسی وقت دنیا پر ایک عظیم غلبہ حاصل کر لیں گے اور سماء الدینا پر پرواز کرتے ہوئے دکھائی دیں گے۔ لیکن یہ واقعات اس ناممکن تصّور کو ممکن بنا کر یقینی دکھا رہے ہیں۔

حضرت عیسیٰ علیہ ا لسلام کو صرف بنی اسرائیل کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا تھا اور اگر غیر قومیں ان کے پیغام کو بزور ِشمشیر دبانے کی کوشش نہ کرتیں تو ممکن ہے عیسائیت محض بنی اسرائیل تک محدود رہتی سوائے اس کے اپنے ترقی کے سفر کے دوران اپنے دائیں بائیں وقتاً فوقتاً کُچھ پگڈنڈیاں بنا لیتی لیکن کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغۡلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِیۡ کے اٹل قانون سے جب غیر قوموں نے ٹکر لی ہے تو وہ خائب و خاسر ہو کر کلیۃً مغلوب ہونے پر مجبور کر دی گئیں۔ بہر حال اس میں کوئی شک نہیں اور یہ حقیقت اپنی جگہ قائم رہتی ہے اور یہ عہد نامہ جدید سے قطعی طور پر ثابت ہے کہ عیسائیت ایک محدود قوم اور ایک خاص نسل کے لئے ایک معین وقت تک پیغام حیات مقرر کی گئی تھی ۔اور اس کا مشن فی ذاتہٖ کبھی بھی عالمی مشن مقرر نہیں ہوا چنانچہ عہد نامہ جدید میں اشارۃً بھی اس بات کا ذکر نہیں ملتا کہ حضرت مسیحؑ کا پیغام کل عالم اور ہر زمانے کے لئے تھا۔

پس سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر رَسُوۡلًا اِلٰی بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ کو غلبہ کے لئے تین سو سال درکار تھے بلکہ تین سو سال کے بعدبھی غلبہ کا حامل نہیں ہوا بلکہ یوں کہنا چاہیئے کہ غلبے کی تکمیل کے سامان پیدا ہو گئے تو وہ رسول جس کا دعویٰ ہی یہ۔ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنِّیۡ رَسُوۡلُ اللّٰہِ اِلَیۡکُمۡ جَمِیۡعًا کہ اے بنی نوع انسان میں تم سب کے لئے خواہ مشرق میں بسنے والے ہو یا مغرب میں، سفید قوموں سے تعلق رکھتے ہو یا سرخ گندم گوں یا زرد یا سیاہ فام۔ میں تم سب کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں اتنے بڑے اور عظیم الشان مقصد کے حصول کے لئے اور اس عظیم پیغام کے تمام دنیا پر کلیۃً غالب آنے کے لئے تین سو سال کے مقابلہ پر نسبتاً ایک زیادہ لمبا زمانہ مقرر ہونا چاہیئے۔ قرآن و حدیث کی طرف جب ہم رہنمائی کے لئے رجوع کرتے ہیں تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کا غلبہ دو ادوار میں منقسم کر دیا گیا ہے۔ پہلا دور یعنی اسلام کے اولین غلبہ کا دور شان ِمحمدیؐ سے تعلق رکھتا ہے اور حضرت محمدﷺ کے وقت سے لے کر اس وقت تک ممتد ہے جب اسلام کے لئے یہ مقدر تھا کہ اس غلبے کی پہلی رو رُک کر مائل بہ انحطاط ہو جائے گی اور اسلام کو ایسے خطرناک ایّام کا منہ دیکھنا پڑے گا جو دنوں کی نسبت راتوں کے زیادہ مشابہ ہوں اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنی خاص قدرت اور جلوہ نمائی کے ساتھ پھر فضل ِعظیم لے کر آئے گا اور حضرت محمد مصطفیٰﷺ کو ایک مرتبہ پھر اپنی ظلی شان میں آخرین میں مبعوث کرے گا۔ تاکہ آپ کے نقشِ قدم پر قدم بقدم چلنے والا مہدی دوبارہ ان کے دلوں کو ایمان سے منور کر دے اور اگر ایمان ثریاتک بھی اٹھ چکا ہو تو ثریا سے اتار کر اس کی شمعیں مسلمانوں کے سینوں میں روشن کر دے۔

اسی طرح جب اللہ تعالیٰ نے آنحضورﷺ پر یہ انکشاف فرمایا کہ اسلام کو دوسرے تمام ادیان پر غالب کر دیا جائے گا۔ تو ایک صحابیؓ کے سوال پر کہ ایسا کب ہو گا؟ حضور اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ یہ اس وقت ہو گا جب مسیحنازل ہو گا وہ صلیب کو توڑے گا۔ خنزیر کو قتل کرے گا اور حکم اور عدل بن کر (قوموں۔ مذاہب اور فرقوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لئے) آئے گا۔ مندرجہ بالا کی روشنی میں یہ صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ مکمل غلبہ سے قبل ہی اسلام کا روبہ تنزل ہو جانا کوئی ایسی علامت نہیں جو اسلام کی آخری شکست اور ناکامی کی غمازی کر رہی ہو بلکہ یہ ایک درمیانی کیفیت ہے جس کا غلبہ سے پہلے ظاہر ہونا شروع ہی سے مقدر تھا جس طرح پہلی قوموں پر اونچ نیچ کے حالات آتے رہے۔لیکن آخری اور قطعی اور اٹل فیصلہ پر اثر انداز نہ ہو سکے۔ اسی طرح اسلام پر انحطاط کا یہ دور خواہ کیسا ہی ہولناک نظر کیوں نہ آئے۔ آنحضورﷺ کی چودہ سو سال قبل پیشگوئیوں کے مطابق ایک عارضی کیفیت سے بڑھ کر کوئی اور معنی نہیں رکھتا۔ اس کا دُور ہو جانا ایک اٹل تقدیر ہے جسے دنیا کی کوئی طاقت تبدیل نہیں کر سکتی۔ پس پہلے ہی سے یہ خبر دے دی گئی تھی کہ اس وقت جب آخرین میں آنحضرتﷺ کی ظلی بعثت کا وقت آئے گا تو مسلمان کو دوبارہ مسلمان بنایا جائے گا۔ اور عیسائیت پر اسلام کی یورش کا آغاز ایک ایسے فتح نصیب جرنیل کی قیادت میں کیا جائے گا۔ جو مسیحؑ کا نام پا کر جھوٹے صلیبی مذہب کے دلائل کو پارہ پارہ کر دے گا اور مغربی تہذیب کا قلع قمع کرے گا۔ جب ان پیشگوئیوں کی طرف نظر اٹھتی ہے تو دل اس بات پر مطمئن ہو جاتا ہے کہ جب انحطاط کی خبر لفظاً لفظاً اپنی تمام تفاصیل کے ساتھ پوری ہو گئی۔ تو بلا شبہ ادیان عالم پر ایک عالمی اور کامل غلبہ کی خوشخبری بھی اس کے بعدجلد پوری ہونے والی ہے۔ ایک انگریزی شاعر نے اس مضمون کے ایک مصرعے میں یوں باندھا ہے کہ

If winter comes, can spring be far behind.

یعنی اگر خزاں آ گئی ہے تو بہار آنے میں بھلا کیا دیر ہو گی

[(1۔ سورۃ الجمعہ، آیت 3-4)(2۔بخاری کتاب التفسیر سورۃ الجمعہ)
(3۔ ابو داؤد کتاب الملاحم باب خروج الدجال ص594) ]

پس جس مخبر صادق نے خزاں کے آنے کی خبر دی تھی اس نے بعد میں آنے والی بہار کی بھی تو خوشخبری دی ہے۔ پھر جیسے خزاں کی خبر پوری ہو گئی ویسے بہار کی بھی خبر بہر حال پوری ہو کر رہے گی

؎ قضائے آسمان است ایں بہر حالت شود پیدا

مذکورہ بالا بحث سے اگر قارئین کو یہ تو معلوم نہیں ہو سکتا کہ عیسائیت کے تین سو سال کے مقابل پر اسلام کو اپنے مشن کی تکمیل کے لئے اور تمام ادیان پر غلبہ حاصل کرنے کے لئے کتنی مدت درکار ہے لیکن یہ امر تو بخوبی روشن ہو چکا ہو گا کہ اس مدت کا تعلق امام مہدی ؑاور مسیح موعودؑ کے ظہور سے ضرور ہے اور امام مہدیؑ اور مسیح موعودؑ کے ظہور کا واقعہ ایک عظیم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے یعنی ایک ایسے سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے جو اس موڑ پرنصب ہے جہاں سے رفعتوں سے اتر کر تنزل کی طرف جانے والی ایک راہ نے دفعتاً ایک بلندہوتی ہوئی شاہراہ میں تبدیل ہو جانا تھا۔ دوسروں کے لئے یعنی ان کے لئے جو مسلمان تو ہیں مگر جماعت احمدیہ سے تعلق نہیں رکھتے۔ یہ مدت غیر معین چلتی آ رہی ہے۔ لیکن احمدی جو ایک ایسے دعویدار پر ایمان لے آئے ہیں جس نے آنحضرتﷺ کی کامل غلامی میں مہدی زماںؑ اور مسیح موعودؑ ہونے کا دعویٰ کیا ان کے لئے یہ مدت واضح طور پر معیّن ہو کر سامنے آچکی ہےاور ان کے لئے نزدیک ظہور اسلام کے بعد چودھویں صدی اسلام کے عالمگیر غلبہ کی تیاری کی صدی ہے۔

اصل مضمون کی طرف واپس آتے ہوئے ایک دفعہ پھر ہم اس سوال کو لیتے ہیں کہ کیوں آنحضرتﷺ کے مخالفین پر یعنی دنیا کے تمام ادیان غیر پر آج تک آنحضرتﷺ کے دین کو غلبہ حاصل نہیں ہوا؟ کیوں اس کے باوجود عذاب الہٰی نے انکار کرنے والی قوموں کو ہلاک کر کے ان کا نام و نشان دنیا سے مٹا نہیں دیا؟

اس سوال کے دو حصے ہیں:اول یہ اسلام کو کیوں دورِ اول ہی میں مکمل غلبہ نصیب نہیں ہوا۔ اس کا ایک جواب تو پہلے گزر چکا ہے ۔دوسرا جواب یہ ہے کہ آنحضرتﷺکوئی علاقائی یا قومی نبی نہیں تھے بلکہ آپ کا پیغام تمام دنیا کے لئے تھا اور تمام بنی نوع انسان کو دینِ واحد پر جمع کرنا آپ کا مقصود تھا۔ اس لحاظ سے کامل غلبہ اس وقت مقدر ہو سکتا ہے جب دنیا کے ایک ایک ہاتھ پر جمع ہونے کے ظاہری اسباب بھی مہیا ہو چکے ہوں۔ طلوعِ اسلام کے وقت ابھی یہ سامان مہیا نہ تھے بلکہ خطہ ارض کا ایک وسیع حصہ جسے ہم نئی دنیا کہتے ہیں ابھی دریافت نہیں ہوا تھا۔ اس وقت اگر بظاہر معلوم دنیا پر کامل غلبہ ہو ہی جاتا تو قریباً آدھی دنیا ایسی پڑی رہ جاتی جو اسلام کے نور سے ناآشنا رہتی۔ اس کے علاوہ اس زمانہ میں مواصلات اور باہمی رابطے کے ایسے ذرائع ابھی ظاہر نہیں ہوئے تھے جن کے نتیجہ میں تمام انسانوں کو ایک عالمی برادری کی صورت میں جمع کیا جاسکتا۔ ان امور کے پیش نظر یقیناً غلبہ آخرکو اس وقت تک انتظار کرنا چاہئے تھا جب کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے مطابق فاصلوں کی دُوری مٹ جاتی اور پہاڑوں ، بیابانوں اور وسیع سمندروں کی قدرتی فصیلیں عملاً اس طرح زائل ہو جاتیں کہ بین الاقوامی روابط کی راہ میں حائل نہ ہو سکتیں۔ اس پہلو سے جب قرآن کریم کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس میں بکثرت ایسی پیشگوئیوں کا ذکر پاتے ہیں جس میں انسان کی دورِ آخر کی ترقیات کا ذکر پایا جاتا ہے۔ کہیں تیز رفتارسواریوں کا ذکر ملتا ہے کہیں انسانوں کے باہم ایک دوسرے کے ساتھ مل جانے کا تذکرہ ہے۔ کہیں کتب اور رسائل کی بکثرت اشاعت کی پیشگوئی کی گئی ہے جس کے ذریعہ انسان ایک دوسرے کو بآسانی خیالات اور نظریات پہنچا سکتا ہے۔ پھر ایسی پیشگوئیاں بھی موجود ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ بعض ایسے سمندر آپس میں ملا دئیے جائیں گے جن کے درمیان نزول قرآن کے وقت خشکی کی دیوار حائل تھی۔ ان پیشگوئیوں پر غور کرتے ہوئے انسان طبعاًیہ نتیجہ نکالتا ہے کہ غلبہ آخر کے وقت سے قبل یہ علامات ظاہر ہو چکی ہوں گی یا اس دور میں تیزی کے ساتھ ترقی پذیر ہوں گی۔ پس جب بھی انسان ان علامات کو ظاہر ہوتے ہوئے دیکھےتوطبعاً اسے توقع رکھنی چاہیئے کہ اس امام کا ظہور بھی نزدیک ہے جس نے ادیان باطلہ پر اسلام کو غالب کرنے کی آخری تحریک چلائی تھی۔

سوال کے دوسرے حصے کا تعلق اس بات سےتھا کہ اگر مکمل غلبہ نصیب نہیں ہو سکا تو عذاب الہٰی نے کیوں مخالف قوموں کو نابود نہ کر دیا۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر غلبہ کے دو ادوار مقدر تھے جیسا کہ اوپر کی بحث سے ظاہر ہے تو عذاب الہٰی کے بھی دو ہی ادوار مقدر ہونے چاہئیں تھے ایک دورِ اول اور ایک دور ِآخر۔ عقل اس بات کو ایک لحظہ کے لئے بھی قبول نہیں کر سکتی کہ آخری غلبہ تو کسی بعد کے زمانے کے لئے ہو لیکن عذاب الٰہی اس زمانہ کا انتظار کئے بغیر قوموں کی صف لپیٹ دے۔ پس اگر غلبہ اس عہد آخر میں مقدر ہے تو عذابِ الہٰی کا ایک دور بھی اس آخری زمانہ سے منسلک ہونا چاہیئے۔ قرآن کریم پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے اور متعدد آیات اس طرف دلالت کرتی ہوئی نظر آتی ہیں کہ آنحضرتﷺ کے منکرین پر آخری حجت پوری کرنے کے لئے بہت سے نشانات اور عذاب مقدر ہیں جن میں سے بعض اپنی وسعت اور قوت میں ایسے عظیم الشان ہونگے جو پہاڑوں کی طرح بڑی بڑی عظیم الشان اور قوی ہیکل قوموں کو آن ِواحد میں ملیا میٹ کر دیں گے اور ان کی عظمتیں خاک میں مل جائیں گی۔ یہاں تک کہ یا تو وہ ایمان لانے پر مجبور ہوں گے یا عملاً اس دنیا سے نابود کر دئیے جائیں گے۔غرضیکہ وہ روکیں جو ان کو آنحضرتﷺ کی کامل اطاعت سے محروم رکھے ہوئے تھیں وہ راہ سے ہٹ جائیں گی۔ سورۃطہٰ میں اس نوعیت کے عذاب کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ ان قوموں کو تمثیلی زبان میں پہاڑ قرار دیتے ہوئے فرماتا ہے۔

وَ یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الۡجِبَالِ فَقُلۡ یَنۡسِفُہَا رَبِّیۡ نَسۡفًا۔ فَیَذَرُہَا قَاعًا صَفۡصَفًا۔لَّا تَرٰی فِیۡہَا عِوَجًا وَّ لَاۤ اَمۡتًا۔یَوۡمَئِذٍ یَّتَّبِعُوۡنَ الدَّاعِیَ لَا عِوَجَ لَہٗۚ وَ خَشَعَتِ الۡاَصۡوَاتُ لِلرَّحۡمٰنِ فَلَا تَسۡمَعُ اِلَّا ہَمۡسًا۔

(سورۃ طہٰ، آیت 106تا 109)

ترجمہ: وہ تجھ سے پہاڑوں کے متعلق پوچھتے ہیں تو کہہ دے کہ میرا رب ان کو اکھاڑ کر پھینک دے گا اور ان کو ایک ایسے چٹیل میدان کی صورت میں چھوڑ دے گاکہ نہ تو اس میں کوئی موڑ دیکھے گا اور نہ کوئی انچائی۔ اس دن لوگ پکارنے والے کے پیچھے چل پڑیں گے جس کی تعلیم میں کوئی کجی نہ ہو گی اور رحمٰن (خدا کی آواز) کے مقابلہ میں (انسانوں کی) آوازیں دب جائیں گی پس تو سوائے کھسر پھسر کے کچھ نہ سنے گا۔

اس آیت کے مضمون کا تعلق قیامت کبریٰ اور اخروی دنیا کے واقعات سے نہیں بلکہ اسی دنیا کے واقعات سے ہےاگر یہ مراد لی جائے کہ پہاڑوں کا مٹایا جانا اس وقت ہوگا جب کہ ظاہری قیامت آئے گی اور دنیا کی ہر چیز صفحہ ہستی سے معدوم ہو جائے گی تو یَوۡمَئِذٍ یَّتَّبِعُوۡنَ الدَّاعِیَ لَا عِوَجَ لَہٗ۔ کےکوئی معنی نہیں بنتے کیونکہ اس دن اہل دنیا ایسے بلانے والے یعنی حضرت محمد مصطفیٰﷺ کی کامل اطاعت کرنی شروع کر دیں گے۔ جس کے کردار میں اور جس کی تعلیم میں کوئی کجی نہیں۔ ظاہری بات ہے کہ جس وقت ظاہری پہاڑ اڑائے جا رہے ہوں گے اور ظاہری زمین چٹیل بنائی جا رہی ہو گی۔ اس وقت بھلا انسان کس شمار میں ہو گا کہ وہ اس قیامت کے دوران نہ صرف زندہ رہے بلکہ روزمرہ کے معمول کے مطابق اپنے سیاہ و سفید کا مالک ہو اور جس دین کو چاہے رد کر دے اور جس دین کو چاہے اختیار کرے۔ پس یَوۡمَئِذٍ یَّتَّبِعُوۡنَ الدَّاعِیَ کے مضمون نے واضح کر دیا کہ جن پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کیا جانا تھا وہ کوئی ظاہری پہاڑ نہیں بلکہ اسلام کی راہ میں حائل وہ عظیم قومیں ہیں جو پہاڑوں کی طرح قوی ہیکل اور مستحکم نظر آئیں گی اور اسلام کی راہ روکے کھڑی ہوں گی۔قرآن کریم میں دوسری جگہ بھی پہاڑوں کا ذکر تمثیل کے طور پر آتا ہے لیکن یہاں اس کی تفصیلی بحث کا موقعہ نہیں۔ بہر حال ایک بات تو واضح ہے کہ جن پہاڑوں کے ملیا میٹ کئے جانے کا ذکر ہے ان کے ساتھ اشاعت اسلام کا براہ راست تعلق ہے۔ اس وقت عالم اسلام زبان حال سے یہ سوال کر رہا ہو گا کہ ان پہاڑوں کا کیا بنے گا اور کیسے اسلام ان عظیم قوموں پر غالب آئے گا جو اپنی کثرت کے لحاظ سے بھی مسلمانوں پر غالب ہیں۔ سازو سامان اور شوکت کے لحاظ سے بھی، دولت کے لحاظ سے بھی، اور علمی اور سیاسی برتری کے لحاظ سے بھی۔ پس آج جب کہ ہر حال میں مسلمان ان کا دست نگر ہو چکا ہے یہاں تک کہ ان کی گندی اور کرم خوردہ تہذیب کو بھی اپنائے چلا جا رہا ہے تو کیسے اسلام اور اسلامی اقدار ان عظیم قوتوں پر غالب آئیں گی۔ قرآن کریم فرماتا ہے کہ اے میرے رسول تو ان سے کہہ دے کہ اللہ تعالیٰ پہاڑوں جیسی سربلند اور مغرور قوموں کو خاک میں ملا دے گا اور ان کی تکبر کی گردنیں توڑے گا۔ وہ ریزہ ریزہ کرکے چٹیل میدا ن کی طرح زمین کے ساتھ ہموار کر دی جائیں گی۔ تب عاجزی اور انکساری کے اس مقام پر اتر آنے کے بعد وہ اس لائق ہونگی کہ تیری پیروی کریں۔ یعنی تیری اس تعلیم کی پیروی کریں جس میں کوئی خم اور کج نہیں۔

قرآن کریم میں اور بہت سے مقامات پر جن کا پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے ایسے عذابوں کا اشارہ ملتا ہے جن کا دورِ آخر سے تعلق ہے۔ لیکن اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب چودہ سو سال کے عرصے میں جب دنیا ان چیزوں کو بھلا بیٹھی اور صدیوں پہلے کی تنبیہات نقش کالعدم کی طرح انسانی ذہنوں سے مٹ چکی ہیں تو پھر کیا اللہ تعالیٰ کا عذاب بغیر کسی تنبیہ نو کے زمانے کو آ پکڑے گا؟ اس سوال کا جواب بھی عملاً اوپر گزر چکا ہے اور یہ واضح کیا جا چکا ہے کہ عذابِ الہٰی کے نئے دور سے پہلے اس امام کا ظہور مقدر تھا جس نے از سرِ نو دنیا کو آنے والے کڑے وقت سے خبردار کر دیا تھا۔

یہ خبر کس طرح دی اور آنے والے عذاب کی کیا تفاصیل بیان کیں اور کس حد تک یہ خبریں پوری ہو چکی ہیں اور کس حد تک پورا ہونا ابھی باقی ہیں۔ یہ وہ امور ہیں جس پر ہم آئندہ قسط میں بحث کریں گے۔

جماعت احمدیہ کا یہ دعویٰ ہے کہ دنیا کے موجودہ بے پناہ مصائب اور تکالیف کا یہ نہ ختم ہوتا ہوا سلسلہ کوئی عام روزمرہ کے واقعات کی زنجیر نہیں بلکہ عذابِ الہٰی کی حیثیت رکھتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پہلے ہی سے ان امور کے متعلق باخبر کر دیا تھا اور بڑی واضح اور بیّن پیشگوئیوں کے ذریعے اہل دنیا کو متنبہ کر دیا تھا کہ اسلام کے غلبہ نو کا دور شروع ہو چکا ہے اگر آنحضرتﷺ اور آپ کی امن بخش تعلیم کے سامنے دنیا نے سرِ تسلیم خم نہ کیا تو اللہ تعالیٰ پے درپے عذابوں سے اس دنیا کو جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر خوابِ غفلت سے بیدار کرے گا۔ یہ سلسلہ جاری رہے گا اور ختم نہ ہو گا جب تک کہ اسلام کو آخری اور قطعی عالمگیر غلبہ نصیب نہ ہو جائے۔

آئیے ہم اس مضمون کے مختلف حصوں کا جائزہ لیں کہ بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ نے اپنے مشن کو کس طرح پورا فرمایا اور اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس مشن پر مامور تھے۔

عذابِ الہٰی کی جو قسمیں قرآن کریم کی بیان کردہ مذہبی تعلیم کی روشنی میں پیش کی گئی ہیں ان کے ذکر کے وقت یہ امر نظر انداز ہو گیا تھا کہ انبیاء کی بعثت کے بغیر بھی بعض اوقات طبعی حوادث کو عذاب کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ اس صورت میں ہو گا جب کوئی قوم اپنے اعمال اور اخلاق میں حد سے زیادہ گندی ہو چکی ہو۔چنانچہ ایسے دور میں بھی مشیت الہٰی کے مطابق بعض اوقات حوادث بڑی شدت کے ساتھ ہجوم کر کے حملہ آور ہو جاتے ہیں اور اس طرح حوادث کو مشیت کے مطابق قومی سزا کے طور پر مسخر کیا جاتا ہے۔ قرآن کریم عذاب کی اس نوع کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے۔

وَ تِلۡکَ الۡقُرٰۤی اَہۡلَکۡنٰہُمۡ لَمَّا ظَلَمُوۡا وَ جَعَلۡنَا لِمَہۡلِکِہِمۡ مَّوۡعِدًا

(سورۃ الکہف، آیت 60)

ترجمہ: اور وہ بستیاں جن کو ہم نے ان کے ظلم کی وجہ سے ہلاک کر دیا ہے ان کے لئے موجب عبرت ہو سکتی تھیں۔ اور ہم نے ان کو ہلاکت کے لئے پہلے سے ایک معیاد مقرر کر دی تھی تاکہ وہ چاہیں تو توبہ کر لیں۔

وہ عذاب جو محض بد اعمالیوں کی وجہ سے سزا کے طور پر وارد کیا جاتا ہے اس کے لئے اگرچہ عمومی انتباہ آسمانی صحیفوں میں موجود ہے لیکن ضروری نہیں کہ اس عذاب سے معاً پہلے کوئی پیشگوئی کی جائے اور نہ ہی یہ ضروری ہے کہ وہ عذاب کسی مذہب کے غلبہ پر منتج ہو۔

اس ضمنی بیان کے بعد ہم حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی بعض ایسی پیشگویوں پر نظر ڈالتے ہیں جو اس زمانے کے انسان کو آنے والے آسمانی عذابوں سے متنبہ کرتی ہیں۔

(باقی آئندہ ان شاء اللہ)

(قسط اوّل)

(قسط دوم)

(قسط سوم)

(قسط پنجم)

(قسط ششم)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 14 جولائی 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 15 جولائی 2020