• 7 اگست, 2020

حوادث طبعی یا عذاب الٰہی (حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ)

(قسط پنجم)

طاعون

طاعون بھی بہت سی دوسری بیماریوں کی طرح ایک بیماری ہے جو طبعی محرکات کے نتیجہ میں پیدا ہوتی اور مٹتی رہتی ہے لیکن کبھی یہ عذاب الٰہی کی شکل بھی اختیار کر لیتی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں بھی اسی طرح ہوا لیکن پیشتر اس کے کہ آپ کی اس عظیم الشان پیشگوئی اور اس کے اثرات پر تفصیلی نظر ڈالی جائے بہتر ہوگا کہ تاریخی پس منظر میں طاعون کی پُر اسرار بیماری کا کچھ جائزہ لیا جائے۔

طاعون کوئی ایسی بیماری نہیں جو عام وبائی بیماریوں کی طرح روزمرہ مختلف موسموںمیںسرنکالتی رہے جیسے ملیریا یا انفلوئنزا گرمیوں میں یا سردیوں میں عموماً کسی نہ کسی شکل میں نظر آ ہی جاتے ہیں۔ طاعون کوئی سالانہ موسمی بیماری نہیں مگر محض یہی کہنے سے بات مکمل نہیں ہوتی۔ یہ کوئی ایسی بیماری بھی نہیں جو دو چار یا دس بیس سال کے بعد وبا کی صورت میں ظاہر ہوتی ہو جیسے چیچک وغیرہ متعدی امراض عموماً آٹھ دس یا بیس سال کا وقفہ دے کر ظاہر ہوتی رہتی ہیں۔ طاعون ایسی تمام امراض سے اتنی مختلف ہے کہ آپس میں گویا انہیں کوئی نسبت نہیں۔ یہ ایک ایسی پُر اسرار بیماری ہے جو ایک دفعہ تباہ کاری مچانے کے بعد جب دنیا سے رخصت ہوتی ہے تو بعض اوقات سینکڑوں سال تک منہ نہیں دکھاتی اور بعض اوقات طاعون کی دو و باؤں کا درمیانی عرصہ ہزار برس سے بھی بڑھ جاتا ہے اس لئے بلا شبہ کہا جاسکتا ہے کہ تمام وبائی امراض میں سب سے زیادہ غیر معمولی بیماری طاعون ہے اور اس امر کے زیادہ قریب ہے کہ غیر معمولی عذابِ الٰہی کا مظہر بنے۔

انسائیکلوپیڈیا برٹینیکا اور تاریخ کی کتب میں طاعون کے بڑے پیمانے پر ظاہر ہونے کے جو واقعات محفوظ کئے گئے ہیں ان کی رُو سے طاعون کی ایک بڑی وباحضرت مسیح کے واقعہ صلیب سے گیارہ سو سال پہلے فلسطین میں ظاہر ہوئی تھی اور اس نے ایک وسیع علاقہ میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی تھی۔ طاعون کایہ خطرناک حملہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وصال کے بعد تیسری صدی موسوی میں ہوا۔ لہذا یہ امر بعید از قیاس نہیں کہ یہود کے بگڑنے کے بعد بنی اسرائیل کے علاقوں میں طاعون کا پھوٹنا ایک سزا کا رنگ رکھتا ہو اور ان معنوں میں اسے عذابِ الٰہی قرار دیا جائے۔

اس کے بعد پہلی مرتبہ ایک ہولناک وباکی صورت میں یہ پہلی صدی عیسوی میں فلسطین اور اس کے گردو پیش کے علاقوں میں ظاہر ہوئی جو بالعموم یہود کا مسکن تھے۔طاعون کا دوسرا حملہ دوسری صدی عیسوی میں ہوا جو پہلے کی نسبت زیادہ وسیع علاقے پر پھیلا ہوا تھا اور شام مصر اور لیبیا کے شمالی حصے بھی شدتِ طاعون سے متاثر ہوئے۔ تیسری مرتبہ پھر طاعون کم و بیش ایک سو سال بعد تیسری صدی عیسوی میں ظاہر ہوئی اس مرتبہ اس کا پھیلاؤپہلے سے بھی بڑھ کر تھا۔

طاعون کا اس طرح پے در پے کم و بیش ایک ایک سو سال کے وقفے سے ظاہر ہونا جبکہ پہلے بارہ سو سال تک اس کاکوئی وجود نہیں ملتا بہت معنی خیز ہے اور ہرگز بعید نہیں کہ ایک ایک سو سال کے مختصر وقفے میں بار بار پھوٹنا یعنی عیسائیت کی پہلی تین صدیوں میں سے ہر صدی میں اس کا ظاہر ہونا خاص مشیت الٰہی کے ماتحت ہو۔ خصوصاً جب ہم دیکھتے ہیں کہ تینوں مرتبہ طاعون کا حملہ عیسائیت کے پھیلاؤکے ساتھ مطابقت رکھتا ہے تو مزید ذہن اس طرف منتقل ہوتا ہے کہ یہ طاعون کی وبا عذابِ الٰہی کی حیثیت رکھتی تھی اور ان قوموں کے لئے سزا کے طور پر وارد ہوئی تھی جنہوں نے عیسائیت پر ہولناک مظالم توڑے۔پہلی صدی میں طاعون کا حملہ فلسطین پر ہوا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے صحابہ پر توڑے جانے والے انتہائی سنگین اور دردناک مظالم کی پہلی آماجگاہ تھا۔ دوسرا حملہ عیسائیت کے پھیلاؤ کے ساتھ مطابقت رکھتے ہوئے ان مشرقی ممالک میں ہوا یعنی شام، فلسطین اور مصر جہاں بنی اسرائیل بکثرت پائے جاتے تھے اور جو اولین طور پر عیسائیوں پر ظلم کرنے میں پیش پیش تھے۔ تیسرا حملہ اس وقت ہوا جب تیسری صدی میں سلطنتِ روما کے یورپین حصہ میں بھی عیسائیت پر مظالم توڑے جانے لگے۔ اس حملے میں سلطنت روما کے یورپین ممالک خاص طور پر متاثر ہوئے اور عام طور پر یہ کہا جانے لگا یہ عیسائیوں کی نحوست ہےجس کی وجہ سے طاعون پھوٹی ہے یہ ویسا ہی الزام ہے جیسے قرآن کریم کے بیان کے مطابق اصحاب قریہ نے اپنی طرف مبعوث ہونے والے رسولوں پر لگایا اور کہا کہ ہم تمہیں منحوس سمجھتے ہیں لیکن ان رسولوں نے جواب دیا کہ طَائِرُ کُمْ مَّعَکُمْ ۔ہر گز نہیں بلکہ تم تو اپنی نحوست خود اپنے ساتھ لئے پھرتے ہو۔ پس معلوم ہوتا ہے کہ عیسائیت پر ظلم کرنے والے ظالم جہاں جہاں بھی ظلم کی نحوستیں ساتھ لے کر گئے وہیں وہیں طاعون نے ان کا تعاقب کیا اور عبرتناک سزا دی۔

عذاب الٰہی سے دوسری مماثلت ان تینوں وباؤں میں یہ نظر آتی ہے کہ باوجود اس کے کہ عیسائی کمزور اور غریب تھے اور جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے بسا اوقات اندھیری غاروں میں پناہ لینے پر مجبور ہو جاتے تھے ۔ لہٰذا اگر عام حوادث زمانہ کی نوعیت کی کوئی چیز ہوتی اور الٰہی تصرف نہ ہوتا تو سب سے پہلے سب سے زیادہ کمزور اور غریبانہ زندگی بسر کرنے والے اور تاریک غاروں میں بسنے والے عیسائیوں کو اس مرض کا شکار ہونا چاہئے تھا لیکن یہ عجیب بات نظر آتی ہے کہ طاعون کے یہ حملے ہر بار عیسائیت کو پہلے سے قوی تر حالت میں چھوڑ گئے۔ یہاں تک کہ 1370-1375ء میں یعنی تیسری صدی کے آخر پر طاعون کا جو تیسرا حملہ ہوا اس نے آخری مرتبہ عیسائیت کو کمزور حالت میں دیکھا ۔ چوتھی صدی عیسائیت کے غلبہ کی صدی ہے۔ جس کے ظاہر ہوتے ہی طاعون جس پُر اسرار طریق پر ظاہر ہوئی تھی اسی پُراسرار طریق پر غائب ہوگئی یہاں تک کہ پھر پورے تین سو سال تک کہیں نظر نہ آئی۔ چھٹی صدی عیسوی کلیسا کے اخلاقی لحاظ سے تباہ و برباد ہونے کی صدی ہے۔ یہ وہ زمانہ ہے جبکہ تمام عیسائی دنیا میں فسق و فجور پھیل چکا تھا اور وہ جوکبھی مظلوم تھے سخت ظالم اور سفاک ہو چکے تھے۔ تب وہی طاعون جو کبھی انکے ادنیٰ خادم کی حیثیت سے ان کی تائید میں ظاہر ہوا کرتی تھی اس مرتبہ انہیں سزا دینے کے لئے آئی۔ اور قابلِ غور امر یہ ہے کہ طاعون کا یہ حملہ اپنی وسعت میں کم و بیش ساری عیسائی دنیا کو گھیرے ہوئے تھا۔ یہ گویا اس امر کا اعلان تھا کہ عیسائی لوگ اب تائید الٰہی سے محروم ہو گئے ہیں۔ چنانچہ یہ حقیقت بہت معنی خیز اور مسلمان کے لئے ایمان افروز ہے کہ طاعون کا یہ حملہ بعینہٖ اس زمانہ میں ہوا جب آنحضرت ﷺ کی عرب میں ولادت ہوئی۔ طاعون کے اس حملے نے پچاس سال تک یعنی کم و بیش ظہور نبوت تک عیسائی دنیا کا پیچھا نہیں چھوڑا گویا کہ وہ زبانِ حال سے یہ اعلان کر رہی تھی کہ اب تم الٰہی نصرت کے حقدار نہیں رہے۔ پس ہمارا یہ کہنا کہ طاعون کی یہ وبابھی ایک غیر معمولی عذاب کی حیثیت رکھتی تھی جو سزا کے طور پر عیسائی دنیا پر نازل ہوئی محض خوش اعتقادی نہیں بلکہ عین قرینِ قیاس ہے اور واقعات کی انگلی اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے دکھائی دیتی ہے۔اس طاعون کی ایک تعجب انگیز حرکت یہ تھی کہ اس نے شام اور فلسطین کو تو خوب اپنی لپیٹ میں لیا اور وہاں سے نکل کر مصر اور پھر سمندر پار یورپ کے مختلف ممالک میں تہلکہ مچا دیا لیکن سرزمین حجاز کا رخ نہیں کیا گویا اس کے سامنے ایک سدِ سکندری کھڑی تھی حالانکہ عام اصول کے مطابق مکہ جو شام سے جنوب کی طرف جانے والی قدیم تجارتی شاہراہ پر واقع تھا تجارتی قافلوں کے ذریعے وہاں تک اس کے اثرات پہنچنے زیادہ قریب قیاس تھے مگر یہ متعدی مرض کسی خاص قدرت الٰہی کے تحت مسخر ہو کر محض عیسائی دنیا تک محدود رہی۔

اس کے بعدطاعون آٹھ سو سال تک اس دنیا سے غائب رہی اور پھر اس نے 1370ء میں ظاہر ہو کر 1375ء تک دنیا کے ایک وسیع تر خطے میں جولانی دکھائی۔ یہ وہ دور ہے کہ ایک طرف اسلامی دنیا شدید اخلاقی انحطاط کا شکار ہو چکی تھی تو دوسری طرف عیسائی دنیا میں بھی حد سے زیادہ فسق و فجور پھیل چکا تھا۔ اس زمانہ کے کلیسا کی تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ وہ Monasteries یعنی راہب خانےجہالت اور اوباشی کا اڈہ بنے ہوئے تھے اور ظلم اور سفاکی کا یہ عالم تھا کہ مذہبی اختلافات کی بناء پر کلیسا کی اجازت ہی سے نہیں بلکہ کلیسا کے ایمااور حکم پر بے دریغ ہزاروں انسانوں کو زندہ جلا دیا جاتا تھا۔ عیسائیت پر پہلے تین سو سال میں اجتماعی طور پر اتنے ظلم نہ ہوئے ہونگے جتنے عیسائیت نے اپنی تاریکی کی صدیوں میں سے ہر صدی میں غیروں اور اپنوں پر توڑے۔ طاعون کا اس زمانہ میں اس علاقہ میں پھوٹنا اور اس شدت سے پھوٹنا ان واقعات کو دیکھتے ہوئے ہرگز تعجب انگیز نہیں رہتا۔اہل یورپ کی سفاکی کا یہ عالم تھا کہ خود عیسائی مورخین کے بیان کے مطابق بعض شہروں میں ہزارہا یہود کو محض اس لئے زندہ آگ میں جلا دیا گیاکہ ان پر یہ الزام تھاکہ طاعون ان کی وجہ سے پھوٹی۔ چنانچہ مشہور مؤرخ ایچ۔ اے۔ ایل فشر اس دور کی جہالت اور سفاکی کی ایک مثال دیتے ہوئے لکھتا ہے :۔

“Among the moral results of this disaster the most shameful was a series of attacks upon the Jewish population, who at Mainz and other German-speaking towns were burned in their hundreds and thousands by an infuriated mob in the belief that the plague was a malignant device of the Semitic race for the confusion of the Catholic creed”

(A History of Europe by H.A. L. Fisher p. 319)

ترجمہ: اس آفت کے اخلاقی نتائج میں سے سب سے زیادہ قابلِ شرم یہ تھا کہ اس کے نتیجے میں یہود آبادیوں پر مائنزاور بعض دوسرے جرمن بولنے والے قصبات میں حملوں کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا۔ سینکڑوں، ہزاروں یہودیوں کو محض اس توہم کے نتیجہ میں نذر آتش کیا جاتا تھا کہ کیتھولک کلیسا میں بد اعتقادی پیدا کرنے کے لئے طاعون کی وبایہودی نسل کے ہاتھوں میں ایک ہولناک آلہ کار کی حیثیت رکھتی ہے۔

بہر حال عیسائی دنیا کا یہ دور ایک انتہائی کریہہ المنظردور ہے پس اگر ظلم وستم کا کوئی دور بھی عذاب الٰہی کو دعوت دے سکتا ہے۔ تو بلا شبہ یہ وہ دور ہے جو پکار پکار کر عذابِ الٰہی کو دعوت دے رہا تھا۔ اگر ہمارا یہ نظریہ درست ہے کہ ظلم و ستم کا اولین ذمہ دار کلیسا تھا تو طبعی طور ہمیں یہ بھی توقع رکھنی چاہیئے کہ طاعون کا اولین شکار بھی اہلِ کلیسا کو ہی ہونا چاہئے۔ جب ہم تاریخ پر اس پہلو سے نظر ڈالتے ہیں تو بعینہٖ وہی منظر نظر آتا ہے۔ سب شہروں اور بستیوں اور مقامات سے بڑھ کر طاعون کو اپنے حملوں کے لئے اگر کوئی جگہ مرغوب تھی تو وہ عیسائی راہب خانے ہی تھے ۔ اس امر کا ذکر کرتے ہوئے ایچ۔ اے۔ ایل فشر اپنی مشہور تاریخ یورپ میں رقم طراز ہے:

“Rather it would be true to say that the sudden destructions of life (which was specially evident in the monasteries) had set in motion a series of small shiftings, which, in their accumulated effects, amounted to a revolution. ”

(A History of Europe by H.A. L. Fisher p. 320)

ترجمہ :۔ غالباً یہ کہنا درست ہو گا کہ زندگی کی اچانک بیخ کنی نے (جو بالخصوص عیسائی راہب خانوں میں نمایاں طور پر نظر آتی تھی) ایک ایسا محرکات کا سلسلہ شروع کر دیا تھا جس نے مجموعی حیثیت سے وہ نتائج پیدا کئے جنہیں انقلاب کا نام دیا جا سکتا ہے۔

طاعون نے نہ صرف اپنی تباہ کاری کے وقت Monasteries (راہب خانوں) کو بالخصوص شکار بنایا بلکہ اس کے بعد کے اثرات بھی کلیسا کے لئے بڑے مہلک ثابت ہوئے اور کلیسا کی طاقت کو توڑنے اور ایک نئی طرزِ فکر پیدا کرنے میں اس طاعون نے ایک اہم کردار اد ا کیا ۔ کلیسا پر اس کے براہ ِراست اثر کا ذکر کرتے ہوئے یہی مورخ انگلستان کی مثال پیش کرتا ہے اور لکھتا ہے :

“In the monasteries a marked decline in literary activity and discipline; in the impoverished country parishes empty rectories and absentee priests”

(A History of Europe by H.A. L. Fisher p. 320)

ترجمہ: اس طاعون نے حسب ذیل مذہبی نتیجہ پیدا کیا کہ مذہبی اداروں اور راہب خانوں میں اسی طاعون کے نتیجے میں علمی دلچسپیوں اور نظم و ضبط میں غیر معمولی کمی واقع ہو گئی۔ اور غریب دیہاتی کلیساؤں میں اس کا یہ اثر پڑا کہ کہیں تو منتظم پادری ہی موجود نہ تھے اور کہیں پادری مقرر تو تھے مگر اکثر غیرحاضر رہنے والے۔

یہ طاعون ایک اور پہلو سے بھی دلچسپ مطالعہ کا مواد پیش کر تی ہے کہ اس کا دائرہ عمل اس مرتبہ صرف عیسائی دنیا تک محدود نہیں رہابلکہ اسلامی دنیا کو بھی اس نے اپنی لپیٹ میں لیا ۔ مسلمانوں کے حالات پر اگر غور کریں تو وہاں بھی بعینہٖ وہی شکل نظر آتی ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے واقعہ صلیب کے چھ سو سال بعد عیسائی دنیا کی تھی۔ اسی طرح عیسائیت تین صدیوں تک بالعموم نیکی کی راہ پر چلتے ہوئے بالآخر اپنے غلبے کے دور میں راستے سے بھٹک کر ظلم و تعدی کی راہ پرگامزن ہوگئی۔ اور دوسرے تین سو سال عیسائیت کی روحانی تباہی اور ہلاکت کے سال شمار کئے جا سکتے ہیںجن کے بعد طاعون نے انکی تائید کی بجائے مخالفت پر کمر باندھ لی۔ اس سے ملتا جلتا ایک منظر ہمیں اسلامی دنیا میں بھی نظر آتا ہے ۔ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی بعثت کے بعد کا تین سو سال کا زمانہ خود آنحضرت ﷺ کی پیشگوئیوں کے مطابق نور اور ہدایت کا ایسا زمانہ قرار دیا جا سکتاہے جس میں نیکی بہر حال بدی پر غالب رہی اور اعتقادی اور سیاسی اختلافات کے باوجودعالم اسلام کی اکثریت اپنی اکثر صفات اور خصال میں نیکی کا مظہر تھی ۔ پھر وہ دور شروع ہوا جس کو فیج اعوج کا نام دیا جاتا ہے اور اگلے تین سو سال خصوصیت کے ساتھ تاریکی کو بڑھانے کا موجب بنے۔ خلافت جو پہلے ہی بادشاہت میں تبدیل ہو چکی تھی تقویٰ سے دُور تر ہوتی چلی گئی۔فرقہ بندی اور اختلافات نے اسلامی نظریات کے ہر شعبہ کو پارہ پارہ کردیا۔ قصور شاہی عیش و عشرت کا مرکز بن گئے اور عوامی بستیوں کو بھی فسق و فجور اور ظلم و تعدی نے گھیرلیا۔ دنیا داری بڑھنے لگی اور روحانیت مفقود ہونے لگی۔ ایسے علمائے ظاہر پیدا ہونے شروع ہوئے جو تقویٰ کا لباس پہننے کی بجائے ریا کا لبادہ اوڑھے ہوئے تھے غرضیکہ وہ ہزار سالہ رات جس نے پہلی تین صدیوں کے بعد اسلامی دنیا پر چھا جانا تھا وہ بلاشبہ مذکورہ تین سو سال کے عرصہ میں پوری طرح بھیگ چکی تھی۔ اسلام کی پہلی تین صدیوں کے اختتام پر جہاں ہمیں روحانی آفات شدت سے سر اٹھاتی نظر آتی ہے وہاں سیاسی لحاظ سے بھی ایسے محرکات پیدا ہورہے تھے جو بالآخر مسلمانوں کی سیاسی قوت کو سبوتاژ کرنے کا موجب بنے۔ تیسری صدی ہجری کے آخر پر ہمیں یہ انتہاہی الم انگیز اور ہولناک صورت حال نظر آتی ہے کہ پوپ مرکزی اسلامی خلافت سے مسلمانوں کی ہسپانوی حکومت کے خلاف سازش کررہا تھا*۔ جس کے نتیجہ میں بالآ خر مسلمانوں کی مرکزی حکومت اس امر پر آمادہ ہو گئی کہ ہسپانیہ کی اسلامی مملکت کے خلاف وہ یورپ کی عیسائی طاقتوں کے ساتھ تعاون کے گی۔ عالم اسلام کے عظیم الشان قلعہ میں یہ پہلا رخنہ ہے جو بالآ خر اس قلعہ کے مسمار ہونے پر منتج ہوا۔ بعد کے تین سو سال نے اس سیاسی انحطاط کو بڑی سرعت اور شدت کے ساتھ بڑھایا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ چودھویں صدی عیسوی میں اسلامی سلطنت کے دونوں بازو یعنی شرقی اور غربی عملاً مفلوج ہوچکے تھے اور ایک طرف مغرب کی عیسائی طاقتیں پیہم جذبات سے سپین کی اسلامی مملکت کو کمزور کررہی تھیںاور یورپ سے مسلمانوں کو نکالنے کا منصوبہ عملاً بروئے کار لا رہی تھیں تو دوسری طرف مشرقی چنگیزیوں کا ہولناک عذاب صحرائے گوبی میں اس طرح پرورش پا رہا تھا جیسے ٹڈی دل کا لشکر سر سبز و شاداب دنیا کی نظروں سے اوجھل ریگستانوں میں ایک عظیم یورش کی تیاری کررہا ہو۔ چھٹی صدی ہجری میں ہمیں پہلی مرتبہ یہ المناک منظر دکھائی دیتا ہے کہ یورپ کے شمال میں اثر و نفوذ بڑھنے کی بجائے مسلمانوں کو سسلی اور کریٹ سے نکال کر افریقی ساحل کی طرف دھکیل دیا گیا۔ مسلمانوں کو بزور شمشیر نکالنے کا یہ عمل اس وقت تک جاری رہا جب تک بالآخر اس واقعہ کے قریباً ایک سو سال بعد سپین میں مسلمانوں کے آخری قلعہ غرناطہ کو بھی عیسائیوں نے بزور شمشیر فتح کرلیا اور کلیتہ ہسپانیہ کی سرزمین سے مسلمانوں کا صفایا کردیا۔ اسی طرح چھٹی صدی بھی مسلمانوں کی تاریخ میں وہ دردناک صدی ہے جب چنگیزیوں کے انبوہ کثیر غول بیابانی کی طرح ناگاہ مسلمانوں کی مشرقی سلطنت پر ٹوٹ پڑے اور بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔ بڑی بڑی بلند عمارتیں پیوند خاک ہو گئیں لیکن اس حقیقت کی یادگار کے طور پر کہ یہاں کبھی انسان بستے تھے بغداد کی زمین پر انسانی کھو پڑیوں کا ایک بلند مینار تعمیر کیا گیا۔ پس کسی پہلو سے بھی دیکھیں تو چوتھی صدی ہجری اگر تاریکی کے آغاز کا اعلان تھا تو چھٹی صدی ہجری اس وقت تک ختم نہ ہوئی جب تک اسلام کے افق پر بڑے جلی الفاظ میں یہ کتبہ آویزاں نہ کر گئی کہ ہر قسم کی تاریکی نے عالم اسلام کو گھیر لیا ہے اور آج کے بعد اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی فجر طلوع ہونے تک یہاں رات کی راجد ھانی ہوگی۔ ان حالات کو دیکھ کر ہر گز تعجب کی جا نہیں کہ طاعون نے بھی اسلامی مملکت کی زیارت کےلئے یہی دور چنا۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے عیسائیوں کو راستے سے بھٹکنے کی سزا دینے کےلئے چھٹی صدی عیسوی میں طاعون کا وبال آیا تھا، مسلمانوں کو بھی حضرت سید الا نبیاء محمد مصطفی ﷺ کے دین سے رو گردانی کی سزا دینے کےلئے تقدیر الہیٰ نے اسی جلاد کو ایک مرتبہ پھر مقرر کیا۔ یقیناً اگر عیسیٰ کا دامن چھوڑنا کسی سزا کا طلبگار تھا تو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا دامن چھوڑنے کا قصور اس سے بہت بڑی سزا کا متقاضی تھا۔ ایسا ہی ہوا اور ایک ایسی خوفناک رات عالم اسلام پر طاری ہو گئی جس کے اندھیروں کے نیچے ہر دولت لوٹی گئی اور ہر اثاثہ چھن گیا۔ نہ سیاست رہی، نہ علم، نہ تہذیب، نہ تمدن۔ حکومتیں پارہ پارہ ہوگئیں۔ رعب جاتا رہا۔ اخلاقی برتری ہاتھ سے نکل گئی۔ علمی تفوق علمی دیوالیہ پن میں تبدیل ہوگیا۔رخ ایسا پلٹا کہ وہ راہیں جو حصول علم کے لئے مغرب سے مشرق کو جارہی تھیں مشرق سے سمت مغرب کو چلنے لگیں۔ معطی سائل بن گئے اور فیض رساں فیض کی بھیگ مانگنے لگے۔ تاریخ کے اس دور کا مطالعہ کرنے سے توحید کا ایک بڑا قیمتی سبق ملتا ہے یہ کہ انسان خواہ کسی کی طرف منسوب ہو اپنے خالق کی نظر میں اس حد تک برابر ہے کہ اگر اس نے ایک مذہب کے دائرے میں غلطی کی ہو اور اس غلطی کی سزا پائی ہو تو کسی دوسرے مذہب کے دائرے میں رہ کر ویسی ہی غلطی کرے گا تو ویسی ہی سزا پائے گا ۔لَا نُفَرِّقُ بَیۡنَ اَحَدٍ مِّنۡ رُّسُلِہ ٖکا ایک یہ بھی مفہوم معلوم ہوتا ہے کہ محض اس لئے کہ کوئی انسان کسی برتر رسول کے نام لیواؤں میں سے ہے اس کی بے راہ روی معاف نہیں کی جائے گی۔ ہمارا یہ کہنا کہ چھٹی صدی ہجری سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلمانوں کو تنبیہ و تو بیخ کا دور شروع ہوتا ہے محض ایک خیال نہیں بلکہ اولیاء اللہ کے تذکرے میں یہ مشہور روایت ہے جو ہمارے اس نظریے کی تائید کرتی ہوئی نظر آتی ہے کہ جب بغداد پر چنگیزیوں کا لشکر حملہ آورہوا تو خلیفہ معتصم نے ایک بزرگ کی خدمت میں بصد عجز و منت دعا کی درخواست کی۔ دوسرے روز اس بزرگ کا یہ پیغام اس خلیفہ کو پہنچا کہ ساری رات میں دعا کرتا رہا لیکن مجھے خواب میں یہ الہام ہوتا رہا کہ یَآ اَیُّھَا الْکُفَّارُ اُقْتُلُواالْفُجَّارَ اے کافرو! فاجروں (یعنی بد اعمال مسلمانوں) کو قتل کرو۔ پس اللہ تعالیٰ کی تقدیر یہی معلوم ہوتی ہے کہ مسلمان اس سزا سے بچ نہیں سکیں گے۔

(باقی آئندہ ان شاء اللہ)

(قسط اوّل)

(قسط دوم)

(قسط سوم)

(قسط چہارم)

(قسط ششم)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 21 جولائی 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 22 جولائی 2020ء