• 20 ستمبر, 2020

حوادث طبعی یا عذاب الٰہی (حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ)

(قسط ہفتم)

شق دوم۔ قادیان کی بستی سے استثنائی سلوک کا دعویٰ

شق اول کے مطالعہ کے دوران بعض قارئین کے ذہن میں خیال پیدا ہو سکتا ہے کہ جبکہ یہ مسلمہ امر ہے کہ طاعون کی وباء اس زمانہ میں پہلی مرتبہ 1880ء میں پھوٹی تھی اور اس کے بعد وقتاً فوقتاً دنیا کے مختلف ممالک میں ظاہر ہوتی رہی تو 1897ء میں یعنی سترہ سال بعد حضرت مرزا صاحب کا طاعون کی وباء کو عذاب الہٰی قرار دینا اور اپنی تائید میں بطور نشان اس کی پیشگوئی کرنا کیا معنے رکھتا ہے۔ کیوں نہ یہ گمان کیا جائے کہ آپ نے یہ اندازہ لگا کر یہ وباء اب زیادہ شدت اختیار کرجائے گی موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک پیشگوئی کردی۔ اس کا ایک جواب تو خود شق اول ہی میں گزر چکا ہے۔ یعنی یہ کہ اس پیشگوئی سے قبل اور بعد کے اعداد و شمار میں حیرت انگیز فرق فی ذاتہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ آپ کی پیشگوئی کسی انسانی تخمینہ کے نتیجہ میں نہیں بلکہ عالم الغیب ہستی کی طرف سے دی جانے والی خبر کے نتیجہ میں تھی۔

اس کا دوسرا جواب یہ ہے کہ اس پیشگوئی میں محض یہ دعویٰ نہ تھا کہ طاعون بصورت عذاب الہٰی بڑی شدت کے ساتھ اس ملک پر حملہ آور ہوگا، بلکہ اس کے ساتھ یہ عجیب دعویٰ بھی تھا کہ قادیان کی بستی اس وباء سے غیر معمولی طور پر محفوظ رہےگی اوررکھی جائے گی اور یہ دعویٰ بڑے کھلے لفظوں میں کیا گیا تھا کہ قادیان میں طاعون داخل ہوئی بھی تو محض معمولی حیثیت اور درجے کی ہوگی۔ اور ایسی وباء سے خدا تعالیٰ اس بستی کو محفوظ رکھے گا جو دیگر دیہات اور بستیوں کی طرح یہاں بھی سخت تباہی مچائے۔ مبادا کسی کو یہ خیال گزرے کہ طاعون کے زمانے میں ایسا دعویٰ کردینا کوئی بڑی بات نہ تھی اور جو چاہتا آسانی سے ایسا دعویٰ کرسکتا تھا۔ ہم اس وہم کے ازالہ کے لئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ میں وہ چیلنج پیش کرتے ہیں جو اس بارہ میں باقی اہل مذاہب کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دیا لیکن کسی کو تو فیق نہ ملی کہ اسے قبول کرے۔ حضور نے فرمایا۔

’’جو شخص ان تمام فرقوں میں اپنے مذہب کی سچائی کا ثبوت دینا چاہتا ہے تو اب بہت عمدہ موقع ہے۔ گویا خدا کی طرف سے تمام مذاہب کی سچائی یا کذب پہچا ننے کے لئے نمایش گاہ مقرر کیا گیا ہے۔اور خدا نے سبقت کرکے اپنی طرف سے پہلے قادیاں کا نام لے دیا ہے۔ اب اگر آریہ لوگ وید کو سچا سمجھتے ہیں تو ان کو چاہیئے کہ بنارس کی نسبت جو وید کے درس کا اصل مقام ہے ایک پیشگوئی کردیں کہ ان کا پر میشر بنارس کو طاعون سے بچا لے گا۔ اور سناتن دھرم والوں کو چاہیئے کہ کسی ایسے شہر کی نسبت جس میں گائیاں بہت ہوں مثلاً امرتسر کی نسبت پیشگوئی کردیں کہ گئو کے طفیل اس میں طاعون نہیں آئے گی اگر اس قدر گئواپنا معجزہ دکھا دے تو کچھ تعجب نہیں کہ اس معجزہ نما جانور کی گورنمنٹ جان بخشی کردے۔ اسی طرح عیسائیوں کو چاہیئے کہ کلکتہ کی نسبت پیشگوئی کردیں کہ اس میں طاعو ن نہیں پڑے گی کیونکہ بڑا بشپ برٹش انڈیا کا کلکتہ میں رہتا ہے۔ اسی طرح میاں شمس الدین اور ان کی انجمن حمایت اسلام کے ممبروں کو چاہئے کہ لاہور کی نسبت پیشگوئی کردیں کہ وہ طاعون سے محفوظ رہے گا۔ اور منشی الہٰی بخش اکونٹنٹ جو الہام کا دعویٰ کرتے ہیں ان کے لئے بھی یہی موقع ہے کہ اپنے الہام سے لاہور کی نسبت پیشگوئی کرکے انجمن حمایت اسلام کو مدد دیں۔ اور مناسب ہے کہ عبدالجبار اور عبدالحق شہر امرتسر کی نسبت پیشگوئی کردیں اور چونکہ فرقہ وہابیہ کی اصل جڑ دلی ہے اس لئے مناسب ہے کہ نذیر حسین اور محمد حسین دلی کی نسبت پیشگوئی کریں کہ وہ طاعون سے محفوظ رہے گی۔ پس اس طرح سے گویا تمام پنجاب اس مہلک مرض سے محفوظ ہوجائے گا ۔اور گورنمنٹ کو بھی مفت میں سبکدوشی ہوجائے گی۔ اور اگر ان لوگوں نے ایسا نہ کیا تو پھر یہی سمجھا جائے گا کہ سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیاں میں اپنا رسول بھیجا ………… اس جگہ مولوی احمدحسن امروہی کو ہمارے مقابلہ کے لئے خوب موقع مل گیاہے۔ ہم نے سنا ہے کہ وہ بھی دوسرے مولویوں کہ طرح اپنے مشرکا نہ عقیدہ کی حمایت میں کہ تا کسی طرح حضرت مسیح ابن مریم کو موت سے بچالیں اور دوبارہ اتار کر خاتم الانبیاء بنادیں بڑی جانکاہی سے کوشش کررہے ہیں ………… اگر مولوی احمد حسن صاحب کسی طرح باز نہیں آتے تو اب وقت آگیا ہے کہ آسمانی فیصلہ سے ان کو پتہ لگ جائے یعنی اگر وہ درحقیقت مجھے جھوٹا سمجھتے ہیں اور میرے الہامات کو انسان کا افترا خیال کرتے ہیں نہ خدا کا کلام تو سہل طریق یہ ہے کہ جس طرح میں نے خدا تعالیٰ سے الہام پاکر کہا ہے اِنَّہٗ اَوَی الْقَرْیَۃَ لَوْ لَاالْاِکْرَامُ لَھَلَکَ الْمَقَامُ وہ اِ نَّہٗٓ اَوٰی اِمْرُوھَہ لکھ دیں۔ مومنوں کی دعا تو خدا سنتا ہے۔ وہ شخص کیسا مومن ہے کہ ایسے شخص کی دعا اس کے مقابلے پر سنی جاتی ہے جس کا نام اس نے دجال اور بے ایمان اور مفتری رکھا ہے مگر اس کی اپنی دعا نہیں سنی جاتی………… اگر انہوں نےاپنے فرضی مسیح کی خاطر دعا قبول کراکر خدا سے یہ بات منوالی کہ امروہہ میں طاعون نہیں پڑے گی تواس صورت میں نہ صرف ان کو فتح ہوگی بلکہ تمام امروہہ پر ان کا ایسا احسان ہوگا کہ لوگ اس کا شکر نہیں کرسکیں گے۔ اور مناسب ہے کہ ایسے مباہلہ کا مضمون اس اشتہار کے شائع ہونے سے پندرہ دن تک بذریعہ چھپے ہوئے اشتہار کے دنیا میں شائع کردیں جس کا یہ مضمون ہو کہ یہ اشتہار مرزا غلام احمد کے مقابل پر شائع کرتا ہوں جنہوں نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور میں جو مومن ہوں دعا کی قبولیت پر بھروسہ کرکے یا الہام پاکر یاخواب دیکھ کر یہ اشتہار دیتا ہوں کہ امروہہ ضرور بالضرور طاعون کی دست برد سے محفوظ رہے گا لیکن قادیاں میں تباہی پڑے گی کیونکہ مفتری کے رہنے کی جگہ ہے۔ اس اشتہار سے غالباً آئندہ جاڑے تک فیصلہ ہوجائے گا یا حد دوسرے تیسرے جاڑے تک ………… چونکہ مسیح موعود کی رہائش کے قریب تر پنجاب ہے اور مسیح موعود کی نظر کا پہلا محل پنجابی ہیں اس لئے اول یہ کاروائی پنجاب میں شروع ہوئی لیکن امروہہ بھی مسیح موعود کی محیط ہمت سے دور نہیں ہے۔ اس لئے اس مسیح کا کافر کش دم ضرور امروہہ تک بھی پہنچے گا یہی ہماری طرف سے دعویٰ ہے اگر مولوی احمد حسن صاحب اس اشتہار کے شائع ہونے کے بعد جس کو وہ قسم کے ساتھ شائع کرے گا امروہہ کو طاعون سے بچا سکا اور کم سے کم تین جاڑے امن میں گزر گئے تو میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں۔ پس اس سے بڑھ کر اور کیا فیصلہ ہوگا۔ اور میں بھی خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں مسیح موعودہوں اور وہی ہوں جس کا نبیوں نے وعدہ دیا ہے اور میری نسبت اور میرے زمانے کی نسبت توریت اور انجیل اور قرآن شریف میں خبر موجود ہے کہ اس وقت آسمان پر خسوف کسوف ہوگا اور زمین پرسخت طاعون پڑے گی اور میرا یہی نشان ہے کہ ہر ایک مخالف خواہ وہ امروہہ میں رہتا ہے اور خواہ امرتسر میں اور خواہ دہلی میں اور خواہ کلکتہ میں اور خواہ لاہور میں اور خواہ گولڑہ میں اور خواہ بٹالہ میں۔ اگر وہ قسم کھا کر کہے گا کہ اس کا فلاں مقام طاعون سے پاک رہے گا تو ضرور وہ مقام طاعون میں گرفتار ہوجائے گا کیونکہ اس نے خدا تعالیٰ کے مقابل پر گستاخی کی۔‘‘

(دافع البلاء ، روحانی خزائن جلد18، صفحہ 230-238)

کھلے کھلے اس چیلنج کے باوجود کسی کو توفیق نہ ملی کہ اپنی بستی کے بارہ میں یہ دعویٰ کرسکے کہ خدا تعالیٰ اسے طاعون کی غیر معمولی تباہی سے محفوظ رکھے گا۔پس تمام اہل مذاہب کی اس بارہ میں خاموشی بذات خود اس امر کا ایک بین ثبوت ہے کہ اس زمانہ میں طاعون جس شدت اور تیزی سے شہروں اور دیہات میں داخل ہوکر زندگی کی بیخ کنی کررہی تھی اس کے دیکھتے ہوئے کسی فرد بشر کے لئے یہ ممکن نہ تھا کہ اپنی طرف سے اتنا بڑا اور محال دعویٰ کردے کہ اس کے گاؤں کو اللہ تعالیٰ طاعون کے غیر معمولی حملہ سے بچالے گا۔ لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے محض یہ دعویٰ ہی نہ کیا بلکہ عجیب تر بات یہ ہے کہ طاعون کی وباء نے حیرت انگیز سعادت مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنےعمل سے آپ کے دعویٰ کی سچائی کو ثابت کردیا۔ چنانچہ عین ان دنوں جبکہ طاعون کی وباء زوروں پر تھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اہل دنیا کو اس عجیب در عجیب نشان کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا:۔

’’اب دیکھوتین برس سے ثابت ہورہا ہے کہ وہ دونوں پہلو پورے ہوگئے یعنی ایک طرف تمام پنجاب میں طاعون پھیل گئی اور دوسری طرف باوجود اس کے کہ قادیاں کے چاروں طرف دو دو میل فاصلے پر طاعون کا زور ہورہا ہے مگر قادیاں طاعون سے پاک ہے بلکہ آج تک جو شخص طاعون زدہ باہر سے قادیاں میں آیا وہ بھی اچھا ہوگیا۔ کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور ثبوت ہوگا کہ جو باتیں آج سے چار برس پہلے کہی گئی تھیں وہ پوری ہوگئیں بلکہ طاعون کی خبرآج سے بائیس برس پہلے براہین احمدیہ میں دی گئی ہے اور یہ علم غیب بجزخدا کے کسی اور کی طاقت میں نہیں۔‘‘

(دافع البلاء، روحانی خزائن جلد18، صفحہ 226)

تیسری شق الدار کی حفاظت

ہر چند کہ یہ بہت عجیب دعویٰ تھاکہ قادیان کی بستی کے ساتھ استثنائی سلوک کیا جائے گا اور دوسرے شہروں اور دیہات کے مقابل پر اسےاس حد تک محفوظ رکھا جائے گا کہ ایک نمایاں امتیاز کی صورت پیدا ہو۔ ہر چند کہ بار بار چیلنج دینے کے باوجود کسی دوسرے شخص کو اس قسم کے دعویٰ کی جرات نہ ہوئی۔ تاہم اس حقیقت سے بھی انکار نہیں ہوسکتا کہ ایک شکی مزاج انسان کے لئے محل اعتراض ابھی باقی ہے سوچنے والا یہ سوچ سکتا ہے اور وہم کرنے والا اس وہم میں مبتلا ہوسکتا ہے کہ ایک امکان کا سہارا لے کر ایسی پیشگوئی کردی گئی اور ساتھ ہی اعتراض سے بچنے کے لئے یہ راہ بھی تجویز کردی گئی کہ اگر طاعون پڑی بھی تو زیادہ شدت کی طاعون نہیں پڑے گی اور دوسرے شہروں کی نسبت امتیاز کی صورت پیدا ہوجائے گی۔ پس استثناء نے پیشگوئی کی امتیازی حیثیت پر ایک ابہام اور تلبیس کا پردہ ڈال دیا ہے۔ اس وہم اور اعتراض کا جواب خود پیشگوئی ہی کی اس تیسری شق میں موجود ہے جس پر ہم اب قلم اٹھا رہے ہیں۔

اگرچہ قادیان کی بستی کے متعلق پیشگوئی میں کلی حفاظت کا وعدہ نہیں تھا لیکن قادیان کے ایک حصہ کے متعلق جو اس قصبہ کی گنجان آبادی کے وسط میں واقع تھا ایسا وعدہ ضرور موجود تھا اور بڑی وضاحت اور تحدی کے ساتھ یہ فرمایا گیا تھا کہ اِنِّیْ اُحَافِظُ کُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ یعنی اللہ تعالیٰ یہ وعدہ کرتا ہے کہ میں ہر اس وجود کی اس وباء سے حفاظت کروں گا جو تیرے گھر کے اندر رہتا ہے۔

پیشگوئی کے اس حصہ پر جب ہم نظر ڈالتے ہیں توقادیان میں طاعون کے معمولی طور پر داخل ہونے والا پہلو پیشگوئی کی شوکت کو کم کرنے کی بجائے اور بھی بڑھا دیتا ہے۔ اگر قادیان میں طاعون کلیۃ داخل ہی نہ ہوتی اور نیکوں کی طرح قادیان کے تمام شریر لوگ بھی اس سے پوری طرح محفوظ رہتے تو ایک شکی مزاج انسان کے لئے شک کی ایک اور صورت پیدا ہوجاتی ہے کہ کیوں نہ یہ سمجھ لیا جائے کہ اتفاق سے طاعون کے جراثیم اس بستی میں داخل ہی نہیں ہوئے۔ اگر یہ کوئی الہٰی نشان ہوتا تو نیک اور بد میں کوئی تمیز ہونی چاہئے تھی۔قادیان کی بستی میں رہنے والے مرزا صاحب کے مخالفین کا بھی اس وباء سے صاف بچ جانا ظاہر کرتا ہے کہ کوئی خدائی ہاتھ نہیں بلکہ اتفاقی حادثہ اس میں کارفرما تھا۔ پھر ایک وہمی انسان یہ بھی اعتراض کرسکتا تھا کہ مرزا صاحب کے گھر کایعنی اس میں رہنے والے ہر وجود کا طاعون کی بیماری سے بچ رہنا تو صرف اس صورت میں امتیازی نشان بن سکتا تھا کہ اس شہر میں طاعون داخل ہوتی۔ دائیں بائیں، آگے پیچھے قرب و جوار میں ہمسایوں کو پکڑتی لیکن آپ کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت اسے نہ ملتی تب ہم سمجھتے کہ ہاں کچھ بات ضرور ہے۔

مندرجہ بالا امکانی اعتراضات اور توہمات کو پیش نظر رکھتے ہوئے جب ہم پیشگوئی اور بعد ازاں رونما ہونے والے واقعات پر نظر ڈالتے ہیں تو عقل حیران رہ جاتی ہے اور غیر معمولی تصرف الہٰی کے سوا ان واقعات کی کوئی طبعی توجیہ پیش کرنے کا کوئی امکان باقی نہیں رہتا پیشگوئی کا ہر جزء حیرت انگیز صفائی کے ساتھ پورا ہوا کہ انسانی طاقت کا کوئی دخل اس میں نظر نہیں آتا۔ قادیان میں طاعون داخل ہوئی مگر نہایت معمولی طریق پر۔ گویا اکا دکا ردی کے ٹکڑےجتنی رہی۔ گھروں ، گلیوں اور بازاروں میں موت کا جھاڑو نہیں دیا۔

حضرت مرزا صاحب کے چند مخالفین تو طاعون کی نظر ہوگئے لیکن کسی مرید کو طاعون نے کچھ نہ کہا طاعون گھر کی چار دیواری کو مس کرکے گذر گئی لیکن ’’الدار‘‘ میں داخل ہونے کی اجازت اسے نہ ملی۔ بیج ناتھ ہندو جس کے گھر کی دیوار حضور علیہ السلام کی دیوار کے ساتھ ملی ہوئی تھی چند گھنٹے طاعون میں مبتلا رہ کر گذر گیا لیکن حضرت اقدس علیہ السلام کا گھر اس کے اثر سے محفوظ رہا۔

ایک منصف مزاج محقق ہرگز اس امر کو تخفیف کی نظر سے نہیں دیکھ سکتااور محض اتفاق کہہ کر اس سے صرف نظر نہیں کرسکتا کہ کسی ہولناک بیماری کے بارہ میں کوئی شخص یہ پیشگوئی کرے کہ وہ اس کے شہر میں معمولی درجہ کا اثر توکرسکتی ہے اس سے زیادہ کی اسے اجازت نہ ہوگی اور جہاں تک اس کے گھر کی چار دیواری کا تعلق ہےتواس کے اندر رہنے والا ہر متنفس خداتعالیٰ کی حفاظت میں رہے گا اور یہ بیماری اسے ہلاک کرنے پر قدرت نہ پاسکے گی۔ پھر جیسا کہ اس نے پیشگوئی کی ہو بعینہ اسی طرح ہوجائے یہ امر یقیناً اتفاق کی عملداری سے ماوریٰ ہے اور ہر سلیم فطرت انسان کو مزید فکر اور جستجو پر مجبور کردیتا ہے۔

قادیان کی بستی میں طاعون کا داخل ہونا اور اکادکالوگوں کو اچک کر لے جانا ایک ایسا موضوع ہے جو بعض مثالوں کے بغیر آج کے قاری پر پوری طرح روشن نہیں ہوسکتا کن کن لوگوں کو اس نے پکڑا اور کن کن لوگوں کو اس نے چھوڑدیا، کس کس پر سے ہاتھ اٹھا لیا۔ کہاں اسے کھل کھیلنے کا موقعہ ملااور کہاں دم مارنے کی مجال نہ تھی۔ قادیان کی تاریخ کا یہ باب حیرت انگیز ہے اور صرف اس ایک باب کا مطالعہ ہی حوادث طبعی اور عذاب الہٰی میں تمیز کر دکھانے کے لئے کافی ہے۔

بیج ناتھ کا ذکر کرچکا ہوں کہ کس طرح اس کے گھر اور دارمسیح کے درمیان صرف ایک دیوار حائل تھی۔ یہ دیوار کچی تھی اور ان کمروں کے فرش بھی کچے تھے جو ایک دوسرے کے ساتھ ملحق تھے۔ چوہوں کے توسط سے طاعون کے کیڑوں کا ایک گھر سے دوسرے گھر میں منتقل ہونا عین قرین قیاس تھا لیکن ایسا نہ ہونا تھا نہ ہوا اور دارمسیح میں بسنے والا انسان تو کجا چوہا بھی طاعون کی مرض سے ہلاک نہیں ہوا۔ یہ کوئی ایک دو ماہ یاسال دو سال کا قصہ نہیں تھا۔ 1898ء سے لے کر 1907ء تک مسلسل نو سال صوبہ پنجاب طاعون کی آفت میں مبتلا رہا لیکن اس چار دیواری میں ایک بھی طاعونی موت نہ ہوئی۔ مذہبی دنیامیں چونکہ آپ کا یہ دعویٰ خوب شہرت پاچکا تھا کہ اللہ تعالیٰ قادیان کو عموماً اور آپ کے گھر کو خصوصاً طاعونی موت سے پاک رکھے گا، اس لئے تمام معاندین احمدیت کی نظر اس تمنا کے ساتھ قادیان پر لگی ہوئی تھی کہ کب وہ دن آئے کہ مرزا صاحب کے گھر بھی کوئی طاعونی موت واقع ہوجائے لیکن خدا نے وہ دن کسی کو نہ دکھایا۔ ہاں بہت سے دشمنان احمدیت یہ دن دیکھنے کی حسرت لئے ہوئے خود طاعون کا شکار ہوکر اس دنیائے فانی سے رخصت ہوئے۔

حضور علیہ السلام کے معاندین کے دلوں میں قادیان میں طاعون کی عام ہلاکت دیکھنے کی تمنا ایسی مچلتی اور کروٹیں لیتی تھی کہ جب کچھ بن نہ آئی تو فرضی قصوں ہی سے تسکین قلب کے سامان ہونے لگے۔ لیکن یہ تسکین بھی عارضی اور فانی ثابت ہوئی کیونکہ حضور علیہ السلام نے معاً دلائل کی سخت ضربات کے ساتھ اس فریب کو پارہ پارہ کردیا۔ مثال کے طور پر ‘‘پیسہ اخبار’’میں شائع ہونے والی ایک فہرست اموات کا ذکر کرتے ہوئے جو اخبار موصوف کے نزدیک قادیان کی بستی میں طاعون سے واقع ہوئی تھی۔ حضرت اقدس علیہ السلام نے اپنی کتاب نزول المسیح میں حسب ذیل طریق پر اس کے فریب کا پردہ چاک کیا۔ تحریر فرمایا:۔

(الف) ’’کہاں تک ان لوگوں کی نوبت پہنچ گئی کہ وہ دیکھتے ہوئے نہیں دیکھتے اور سنتے ہوئے نہیں سنتے اور سمجھتے ہوئے نہیں سمجھتے۔ ان میں سے جھوٹ بولنے کاسرغنہ پیسہ اخبار کا ایڈیٹر ہے جو بارہادروغگوئی کی رسوائی اٹھا چکا ہے اور پھر باز نہیں آتا۔ وہ میری نسبت آپ ہی اقرار کرتا ہے کہ انہوں نے قادیان کے بارے میں صرف اس قدر الہام شائع کیا ہے کہ اس میں تباہی ڈالنے والی طاعون نہیں آئے گی ہاں اگر کچھ کیس ہوجائیں جو موجب افراتفری نہ ہوں تو یہ ہوسکتا ہے اور پھر اپنے دوسرے پرچوں میں فریاد پر فریاد کررہا ہے کہ قادیان میں طاعون آگئی‘‘

(نزول المسیح، روحانی خزائن جلد18صفحہ386-387)

(ب) ’’وہ لکھتا ہے کہ مولا چوکیدار کی بیوی بھی طاعون سے فوت ہوگئی حالانکہ وہ اس وقت تک قادیان میں زندہ موجود ہے۔ ہر ایک شخص سوچ لے کہ اس شخص نے کیا وطیرہ اختیار کررکھا ہے کہ زندوں کو مار رہا ہے۔ کیا ایک ایڈیٹر اخبار کی قلم سے ایسے خطرناک جھوٹ شائع ہونا اور دلوں کو آزار پہنچانا موجب نقص امن نہیں ہےجس شخص کے اخبار کے ہر ہفتہ میں ہزار ہا پرچے شائع ہوتے ہیں قیاس کرنے کی جگہ ہے کہ وہ کس طرح خلاف واقعہ ماتم کی خبروں سے بے گناہ دلوں کو دکھ دے رہا ہے اور دنیا میں بے امنی پھیلا رہا ہے۔ ایک تو آسمان سے انسانوں پر واقعی مصیبت ہے اب دوسری مصیبت یہ پیدا ہوگئی ہے جو پیسہ اخبار کے ذریعہ سے ملک میں پھیلتی جاتی ہے۔‘‘

(نزول المسیح، روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 391)

(ج) ’’دوسرا طریق افتراء کا جو پیسہ اخبار نے اختیار کیا ہے وہ یہ ہے کہ صرف فرضی نام لکھ کر ظاہر کرتا ہے کہ یہ لوگ قادیان میں طاعون سے مرے ہیں حالانکہ ان ناموں کا کوئی انسان قادیان میں نہیں مرا۔ مثلاً وہ لکھتا ہے کہ مسمی مولا کی لڑکی طاعون سے مری ہےحالانکہ مولا مذکور کے گھر میں کوئی لڑکی پیدا ہی نہیں ہوئی۔ ایسا ہی وہ لکھتا ہے کہ ایک صدرو بافندہ طاعون سے مرا ہے حالانکہ اس گاؤں میں صدرو نام کا کوئی بافندہ ہی نہیں جو کہ طاعون سے مرگیا ہو۔ نہ معلوم اس کو یہ کیا سوجھی کہ فرضی طور پر نام لکھ کر ان کو طاعونی اموات میں داخل کردیا۔ شاید اس لئے ایسا کیا گیا کہ تا کچھ پتہ نہ چل سکے اور جاہل لوگ سمجھ لیں کہ ضرور ان ناموں کے کوئی لوگ ہوں گے جو مرے ہوں گے۔‘‘

(نزول المسیح، روحانی خزائن جلد18 صفحہ391)

(د) ’’تیسرا طریق افتراء کا جو پیسہ اخبار نے اختیار کیا ہے وہ یہ ہے کہ بعض آدمی فی الحقیقت مرے تو ہیں مگر وہ کسی اور حادثہ سے مرے ہیں نہ طاعون سے اور اس نے محض چالاکی اور شرارت سے طاعون کی اموات میں داخل کردیا ہے مثلاً وہ اپنے اخبار میں بڈھا تیلی کے لڑکے کی نسبت لکھتا ہے کہ وہ طاعون سے مرا ہے حالانکہ تمام گاؤں جانتا ہے کہ وہ دیوانہ کتے کے کاٹنے سے مرا تھا اور جیسا کہ معمول ہے سرکاری طور پر اس کی موت کا نقشہ طیار کیا گیا اور کتے کے کاٹنے کی تاریخ وغیرہ اس میں لکھی گئی۔‘‘

(نزول المسیح ، روحانی خزائن جلد18،صفحہ 391-392)

دشمن احمدیت اخبارات کی الزام تراشی کے نتیجہ میں اس زمانہ کے لاعلم عوام کے ایک طبقہ کو ضرور نقصان پہنچا ہوگا لیکن مستقبل کے لئے یہ الزام تراشی بھی احمدیت کی تائید میں کچھ نشان چھوڑ گئی ہے۔ آج ان الزامات کے مطالعہ سے ایک محقق کا ذہن یقیناً یہ سوچنے پر مجبور ہوگا کہ

(1)۔ اگر قادیان میں واقعہ طاعون نے کوئی عام تباہی مچائی تھی تو دشمنان احمدیت کو یہ امر حکومت کے طبی ریکارڈ سے ثابت کرنا چاہئے تھا یا کم از کم یہ دعویٰ ہی کرنا چاہئے تھا کہ قادیان میں سینکڑوں طاعونی اموات واقع ہورہی ہیں۔ اس کے برعکس محض گنتی کے چند ناموں کااعلان کرنا خود اس امر کو ثابت کرتا ہے کہ پیشگوئی کے عین مطابق قادیان طاعون کے عام حملہ سے محفوظ رہا۔
(2)۔ اگر واقعۃً قادیان میں متعدد طاعونی اموات واقع ہوئی ہوتیں تو دشمن احمدیت اخبارات ہرگز اس امر کے محتاج نہیں تھے کہ اس بارہ میں فرضی نام شائع کرتے یا غیر طاعونی اموات کو طاعونی اموات قرار دیتے۔ اخبارات کی یہ حرکت خود اس امر کی غمازی کررہی ہے کہ درحقیقت قادیان طاعون کی عام تباہی سے محفوظ رہا۔
(3)۔ معاند اخبارات کا بطور الزام بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان میں کسی طاعونی موت کا ذکر نہ کرنا ان کی عاجزی اور بے بسی کی دلیل ہے اور امر کا مزید ثبوت ہے کہ ’’الدار‘‘ کی حفاظت کا دعویٰ بڑی شان سے پورا ہوا۔

بہرکیف حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جہاں معاند اخبارات کے الزامات کا نہایت تشفی بخش جواب دیا وہاں ایک بار پھر ان پر اپنے دعویٰ اور پیشگوئی کو نوعیت کو حسب ذیل الفاظ میں واضح فرمایا:
’’ہمیں اس سے انکار نہیں کہ قادیان میں بھی کبھی وبا پڑے یا کسی معمولی حد تک طاعون سے جانوں کا نقصان ہو لیکن یہ ہرگز نہیں ہوگا کہ جیسا کہ قادیان کے اردگرد تباہی ہوئی یہاں تک کہ بعض گاؤں موت کی وجہ سے خالی ہوگئے یہی حالت قادیان پر بھی آوے ۔کیونکہ وہ خدا جو قادر خدا ہے اپنے پاک کلام میں وعدہ کرچکا ہے جو قادیان میں تباہ کرنے والی طاعون نہیں پڑے گی۔ جیسا کہ اس میں فرمایا: لَوْ لَاالْاِکْرَامُ لَھَلَکَ الْمَقَامُ یعنی اگر مجھے تمہاری عزت ظاہر کرنا ملحوظ نہ ہوتا تو میں اس مقام کو بھی یعنی قادیان کو طاعون سے فنا کردیتا یعنی اس گاؤں میں بھی بڑے بڑے خبیث اور شریر اور ناپاک طبع اور کذاب اور مفتری رہتے ہیں اور وہ اس لائق تھے کہ قہر الہٰی سب کو ہلاک کر دیوے مگر میں ایسا کرنا نہیں چاہتا کیونکہ درمیان میں تمہارا وجود بطور شفیع کے ہے اور تمہارا اکرام مجھے منظور ہے اس لئے میں اس مرتبہ سزا سے درگزرکرتا ہوں کہ خوفناک تباہی اور موت ان لوگوں پر ڈال دوں تاہم بکلی بے سزا نہیں چھوڑوں گا اور کسی حد تک وہ بھی عذاب طاعون میں سے حصہ لیں گےتا شریروں کی آنکھیں کھلیں۔‘‘

(نزول المسیح، روحانی خزائن جلد18، صفحہ394)

مندرجہ بالا تحریر کے آخری الفاظ خاص طور پر قابل توجہ ہیں اور زیر نظر مضمون پر بہت عمدہ روشنی ڈالتے ہیں ان کے ساتھ جب ہم ایک گزشتہ چیلنج کے حسب ذیل الفاظ کو ملا کر پڑھیں تو بات اور بھی واضح ہوجاتی ہے۔

’’ہر ایک مخالف خواہ وہ امروہہ میں رہتا ہے اور خواہ امرتسر میں اور خواہ دہلی میں اور خواہ کلکتہ میں اور خواہ لاہور میں اور خواہ گولڑہ میں۔ اور خواہ بٹالہ میں اگر وہ قسم کھا کر کہے گا کہ اس کا فلاں مقام طاعون سے پاک رہے گا تو ضرور وہ مقام طاعون میں گرفتار ہوجائے گا کیونکہ اس نے خدا تعالیٰ کے مقابل پر گستاخی کی۔‘‘

(دافع البلاء، روحانی خزائن جلد18 صفحہ238)

مندرجہ بالا دونوں عبارتوں کے مضمون کو ذہن میں رکھ کر جب ہم حسب ذیل واقع پر نظر ڈالتے ہیں تو دل خشیت الہٰی سے بھر جاتا ہے اور حوادث طبعی اور عذاب الہٰی میں تمیز کا مسئلہ علمی حیثیت سے آگے گذر کر ایک قلبی واردات کی شکل میں ڈھل جاتا ہے۔

اسی ماہ یعنی فروری 1907ء میں جب کہ یہ کتاب شائع ہوئی اچھر چند مینیجر اخبار اور سیکرٹری آریہ سماج قادیان نے ایڈیٹرالحکم شیخ یعقوب علی صاحب تراب سے ایک گفتگو کے دوران کہا کہ میں مرزاصاحب کی طرح دعویٰ کرتا ہوں کہ طاعون سے کبھی نہیں مروں گا۔ خدا کی قدرت !چند دن کے اندر اندر ’’شبھ چنتک‘‘ کا پورا عملہ طاعون کا شکار ہوگیا اور خدا کے اس قہر نے ان کی اولاد اور اہل و عیال کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ چنانچہ سب سے پہلے سومراج اور بھگت رام کی نرینہ اولاد لقمہ طاعون ہوئی پھر بھگت رام اور اچھرچند چل بسے۔ باقی رہا سومراج سو وہ بھی اپنے گھر اپنے جگری دوستوں کی تباہی و بربادی کا درد ناک نظارہ دیکھنے کے بعد سخت بیمار ہو گیا۔ اس نے گھبرا کر حکیم مولوی عبد اللہ صاحب بسمل کو کہلا بھیجا کہ میں بیمار ہوں آپ مہربانی فرما کر علاج کریں۔ مولوی صاحب نے حضرت مسیح موعود ؑ کی خدمت میں ایک عریضہ لکھ کر پوچھا کہ سومراج نے مجھ سے علاج کرنے کی درخواست کی ہے حضور کا اس بارے میں کیا ارشاد ہے؟ حضرت مسیح موعود ؑ نے جواب میں فرمایا: ’’آپ علاج ضرور کریں کیوں کہ انسانی ہمدردی کا تقاضا ہے مگرمیں آپ کو بتائے دیتا ہوں کہ یہ شخص بچے گا نہیں۔‘‘ چنانچہ حکیم بسمل صاحب کے ہمدردانہ رویہ کے باوجود سومراج کی حالت بدتر ہوتی گئی اور وہ آخر دوسرے روز 4 بجے کے قریب اپنے ساتھیوں سے جا ملا۔‘‘

(تاریخ احمدیت جلد2، صفحہ484-485)

بلاشبہ یہ واقعہ بہت ہی عبرتناک اور سبق آموز ہے مگر عبرت اور حسرت اور سخت نامرادی کی یہ داستان نامکمل رہے گی اگر ہم پنڈت سومراج کے اس آخری خط کا ذکر نہ کریں جو اس نے اخبار پرکاش کے نام لکھا۔ پیشتر اس کے کہ وہ شائع ہوتا عذاب الہٰی نے خود اسے بھی لقمہ اجل بنا دیا۔

(یہ چٹھی) ٹھیک اسی دن شائع ہوئی جس روز پنڈت سومراج اس دنیا سے رخصت ہوا، لکھتا ہے کہ
’’یکایک مہاشہ اچھرچند کی استری اور عزیز بھگت رام برادر الالہ اچھرچند کا لڑکا بیمار ہوگئے۔ خیر ان کی استری کو تو آرام آگیا لیکن لڑکاگزر گیا ۔ اس تکلیف کا ابھی خاتمہ نہیں ہوا تھا کہ میری استری اور میرا چھوٹا لڑکا عزیز شوراج بیمار ہوگئے۔ میری استری تو ابھی بیمار ہی ہے مگر ہونہار لڑکا پلیگ کا شکار ہوگیا۔ اس مصیبت کو ابھی بھول نہیں گئے تھے کہ ایک ناگہانی مصیبت اور سر آ پڑی اور وہ یہ تھی کہ عزیز بھگت رام جس کے لڑکے کے گزر جانے کا اوپر ذکر کیا ہے بیمار ہوگیا اور چھ روز بیمار رہ کر ہمیشہ کے لئے داغ مفارقت دے گیا۔ یہی وجہ ہے کہ اب کے ہم گوروکل میں بھی نہیں جاسکےاور اخبار بھی دو ہفتہ سے بند ہے۔ اور ابھی اپریل کا کوئی پرچہ نکلنے کی آشا نہیں ہے کیوں کہ لالہ اچھرچند جی تو اول کئی ہفتے اس صدمے سے کام کرنے کے قابل نہیں رہے۔‘‘

(تاریخ احمدیت جلد2، صفحہ 485)

قادیان میں طاعون نے کس حد تک اور کہاں کہاں دخل دیا اس کی کچھ کیفیت بیان ہوچکی ہے۔ یہ بھی گذر چکا ہے کہ دار مسیح میں کسی بسنے والے ذی روح کی جان لینے پر اسے قدرت نصیب نہ ہوسکی۔ یہ ایک ایسی تاریخی حقیقت ہے جس کی تردید کی شدید ترین معاند احمدیت کو بھی توفیق نصیب نہ ہوسکی۔ یہ خدا کا ایسا اٹل وعدہ تھا جس کی تفاصیل پر نظر ڈالنے سے عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ اس تمام عرصہ میں بیماری کے صرف دو ایسے واقعات ہوئے جن پر طاعون کا شبہ گذرا۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ وہ طاعون تھا بھی کہ نہیں۔ لیکن اگر دوسری بیماری بھی تھی تو اس کے نتیجے میں موت واقع ہونے پر دشمن کو تضحیک کا موقعہ ضرور مل سکتا تھا اور پیشگوئی کی صداقت پر شک و ابہام کا پردہ پڑسکتا تھا لہٰذا اللہ تعالیٰ کی غیرت نے یہ بھی پسند نہ کیا کہ مسیح کی چار دیواری میں بسنے والا کوئی متنفس طاعون کے شبہ میں بھی مارا جائے۔ یہ دو واقعات حسب ذیل ہیں:۔

1۔ ’’ایک دفعہ طاعون کے زور کے دنوں میں جب قادیان میں بھی طاعون تھی مولوی محمد علی صاحب ایم اے کو سخت بخار ہوگیا اور ان کی ظن غالب ہوگیا کہ یہ طاعون ہے اور انہوں نے مرنے والوں کی طرح وصیت کردی اور مفتی محمد صادق صاحب کو سمجھا دیا اور وہ میرے گھر کے ایک حصہ میں رہتے تھے جس گھر کی نسبت یہ الہام ہے اِنِّیْ اُحَافِظُ کُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ۔تب میں ان کی عیادت کے لئے گیااور ان کو پریشان اور گھبراہٹ میں پاکر میں نے ان کو کہا کہ اگر آپ کو طاعون ہوگئی تو میں جھوٹا اور میرا دعویٰ الہام غلط ہے۔ یہ کہہ کر میں نے ان کی نبض پر ہاتھ لگایا۔ یہ عجیب نمونہ قدرت الہٰی دیکھا کہ ہاتھ لگنے کے ساتھ ہی ایسا بدن سرد پایا کہ تپ کا نام و نشان نہ تھا۔‘‘

(تاریخ احمدیت جلد 2، صفحہ 218)

2۔ ’’میں نے کئی دفعہ ایسی منذر خوابیں دیکھیں جن میں منذر خوابیں دیکھیں جن میں صریح طور پر یہ بتلایا گیا تھا کہ میر ناصر نواب جو میرے خسر ہیں ان کے عیال کے متعلق کوئی مصیبت آنے والی ہے ………… میں دعا میں لگ گیا ہوں اور وہ اتفاقاً مع اپنے بیٹے اسحاق اور اپنے گھر کے لوگوں کے لاہور جانے کو تھے میں نے ان کو یہ خوابیں سنادیں اور لاہور جانے سے روک دیا اور انہوں نے کہا کہ میں آپ کی اجازت کے بغیر ہرگز نہیں جاؤں گا۔ جب دوسرے دن کی صبح ہوئی تو میر صاحب کے بیٹے اسحاق طرف بن ران میں گلٹیاں نکل آئیں اور یقین ہوگیا کہ طاعون ہے۔ کیونکہ اس ضلع کے بعض مواضع میں طاعون پھوٹ پڑی ہے۔ تب معلوم ہواکہ مذکورہ بالا خوابوں کی تعبیر یہی تھی اور دل میں سخت غم پیدا ہوا۔اور میں نے میر صاحب کے گھر کے لوگوں کو کہہ دیا کہ میں تو دعاکرتا ہوں آپ بہت توبہ و استغفار کریں۔ کیونکہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ آپ نے دشمن کو اپنے گھر میں بلایا ہے اور یہ کسی لغزش کی طرف اشارہ ہے۔ اور اگرچہ میں جانتا تھا کہ موت فوت قدیم سے ایک قانون قدرت ہے لیکن یہ خیال آیا کہ اگر خدا نخواستہ ہمارے گھر میں کوئی طاعون سے مرگیا تو ہماری تکذیب میں شور قیامت برپا ہوجائے گا اور پھر گو میں ہزار نشان بھی پیش کروں تب بھی اس اعتراض کے مقابل پر کچھ بھی ان کا اثر نہیں ہوگا۔ کیونکہ میں صد ہا مرتبہ لکھ چکا ہوں اور شائع کرچکا ہوں اور ہزار ہا لوگوں میں بیان کرچکا ہوں کہ ہمارے گھر کے تمام لوگ طاعون کی موت سے بچے رہیں گے۔ غرض اس وقت جو کچھ میرے دل کی حالت تھی میں بیان نہیں کرسکتا۔ میں فی الفور دعا میں مشغول ہوگیا اور بعد دعا کے عجیب نظارہ قدرت دیکھا کہ دو تین گھنٹہ میں خارق عادت کے طور پر اسحاق کا تپ اتر گیا اور گلٹیوں کا نام و نشان بھی نہ رہا اور وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔ اور نہ صرف اس قدر بلکہ پھرنا۔ چلنا۔ کھیلنا۔ دوڑنا شروع کردیا۔ گویا کبھی کوئی بیماری نہیں ہوئی تھی۔ یہی احیائے موتی۔ میں حلفاً کہتا ہوں کہ حضرت عیسیٰ کے احیائے موتی میں اس سے ایک ذرہ کچھ زیادہ نہ تھا۔‘‘

(تاریخ احمدیت جلد 2، صفحہ218-219)

(قسط اوّل)

(قسط دوم)

(قسط سوم)

(قسط چہارم)

(قسط پنجم)

(قسط ششم)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 4 اگست 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 05 اگست 2020ء